<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:07:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:07:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جھوٹے الزام میں 17 سال قید میں گزارنے والے شخص سے جیل میں قیام و طعام کے اخراجات طلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30403549/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ میں ایک شخص کو ناکردہ جرم کی پاداش میں 17 سال جیل میں گزارنا پڑے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اُس نے جیل میں قیام و طعام کے اخراجات اُس سے وصول کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈریو مالکنسن کو زیادتی کے کیس میں بلا جواز طور پر سزا سنائی گئی تھی۔ اُس نے جیل میں 10 سال اضافی طور پر اِس لیے گزارے کہ وہ اپنی بے گناہی کے موقف پر ڈٹا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اُسے سنائی جانے والی سزا غلط تھی۔ عدالت نے اُسے بری کردیا ہے۔ اینڈریو مالکنسن اب 57 سال کا ہے۔ اسے 2003 میں گریٹر مانچسٹر میں ایک خاتون سے زیادتی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جیل میں کم از کم سات سال گزارنے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈریو مالکنسن کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک بڑا اور انتہائی قیمتی مرحلہ ضائع ہوگیا۔ اس دوران اس پر کئی بار اتنی مایوسی سوار ہوئی کہ اس نے خود کشی کرنے کے بارے میں بھی سوچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کہا جارہا ہے کہ ناکردہ جرم کی سزا بھگتنے کے ہرجانے کے طور پر جو رقم ملے گی اس میں جیل میں قیام و طعام کے اخراجات منہا کرلیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈریو مالکنسن نے گریٹر مانچسٹر پولیس کی معافی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان قواعد و ضوابط پر شدید نکتہ چینی کی ہے جو اُسے ہرجانے کی رقم سے جیل میں قیام و طعام کے اخراجات ادا کرنے کا پابند بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ میں ایک شخص کو ناکردہ جرم کی پاداش میں 17 سال جیل میں گزارنا پڑے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اُس نے جیل میں قیام و طعام کے اخراجات اُس سے وصول کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>اینڈریو مالکنسن کو زیادتی کے کیس میں بلا جواز طور پر سزا سنائی گئی تھی۔ اُس نے جیل میں 10 سال اضافی طور پر اِس لیے گزارے کہ وہ اپنی بے گناہی کے موقف پر ڈٹا رہا تھا۔</p>
<p>اب ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ اُسے سنائی جانے والی سزا غلط تھی۔ عدالت نے اُسے بری کردیا ہے۔ اینڈریو مالکنسن اب 57 سال کا ہے۔ اسے 2003 میں گریٹر مانچسٹر میں ایک خاتون سے زیادتی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جیل میں کم از کم سات سال گزارنے تھے۔</p>
<p>اینڈریو مالکنسن کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک بڑا اور انتہائی قیمتی مرحلہ ضائع ہوگیا۔ اس دوران اس پر کئی بار اتنی مایوسی سوار ہوئی کہ اس نے خود کشی کرنے کے بارے میں بھی سوچا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403349"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب کہا جارہا ہے کہ ناکردہ جرم کی سزا بھگتنے کے ہرجانے کے طور پر جو رقم ملے گی اس میں جیل میں قیام و طعام کے اخراجات منہا کرلیے جائیں گے۔</p>
<p>اینڈریو مالکنسن نے گریٹر مانچسٹر پولیس کی معافی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان قواعد و ضوابط پر شدید نکتہ چینی کی ہے جو اُسے ہرجانے کی رقم سے جیل میں قیام و طعام کے اخراجات ادا کرنے کا پابند بناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30403549</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Aug 2024 16:55:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/10163122ebbac85.webp?r=163245" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/10163122ebbac85.webp?r=163245"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
