<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:46:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:46:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں‘ پر جنرل فیض حمید گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30403946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے پاک فوج کی جانب سے جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف دائر گئے ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی تھی۔ نتیجتاً، پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر) کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ٹاپ-سٹی-کیس" href="#ٹاپ-سٹی-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ سٹی کیس&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/cxoy2SOL1Pg?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک معز احمد خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک مبینہ کیس کے سلسلے میں ٹاپ سٹی کے دفتر اور معز خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سونے اور ہیروں کے زیورات اور رقم سمیت قیمتی سامان لوٹ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مزید کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے ثالثی کی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، بریت کے بعد جنرل (ر) فیض حمید نے معز خان سے ان کے کزن کے ذریعے ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے رابطہ کیا جوکہ فوج میں ایک بریگیڈیئر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے درخواست گزار کو کہا کہ وہ چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا کچھ چیزیں واپس کردیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار نے مبینہ طور پر درخواست گزار کو 4 کروڑ نقد ادا کرنے اور کچھ مہینوں کے لیے ایک نجی چینل ’آپ ٹی وی نیٹ ورک‘ کو اسپانسر کرنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار ارتضیٰ ہارون، سردار نجف، وسیم تابش، زاہد محمود ملک اور محمد منیر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر قانونی قبضے میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30355354"&gt;سپریم کورٹ نے 14 نومبر 2023 کو&lt;/a&gt; سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے کہا کہ الزامات سنجیدہ ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضے کے لیے ان کو اور اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، جنرل (ر) فیض حمید پر رینجرز اور آئی ایس آئی حکام کے ذریعے درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ جنرل (ر) فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے، الزامات سنجیدہ ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے پاک فوج کی جانب سے جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف دائر گئے ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی تھی۔ نتیجتاً، پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر) کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<h2><a id="ٹاپ-سٹی-کیس" href="#ٹاپ-سٹی-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹاپ سٹی کیس</strong></h2>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/cxoy2SOL1Pg?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹاپ سٹی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک معز احمد خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک مبینہ کیس کے سلسلے میں ٹاپ سٹی کے دفتر اور معز خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر سونے اور ہیروں کے زیورات اور رقم سمیت قیمتی سامان لوٹ لیا۔</p>
<p>درخواست میں مزید کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے ثالثی کی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، بریت کے بعد جنرل (ر) فیض حمید نے معز خان سے ان کے کزن کے ذریعے ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے رابطہ کیا جوکہ فوج میں ایک بریگیڈیئر ہیں۔</p>
<p>درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے درخواست گزار کو کہا کہ وہ چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا کچھ چیزیں واپس کردیں گے۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار نے مبینہ طور پر درخواست گزار کو 4 کروڑ نقد ادا کرنے اور کچھ مہینوں کے لیے ایک نجی چینل ’آپ ٹی وی نیٹ ورک‘ کو اسپانسر کرنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403966"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار ارتضیٰ ہارون، سردار نجف، وسیم تابش، زاہد محمود ملک اور محمد منیر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر قانونی قبضے میں ملوث تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30355354">سپریم کورٹ نے 14 نومبر 2023 کو</a> سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے کہا کہ الزامات سنجیدہ ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضے کے لیے ان کو اور اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، جنرل (ر) فیض حمید پر رینجرز اور آئی ایس آئی حکام کے ذریعے درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30403960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ جنرل (ر) فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے، الزامات سنجیدہ ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے معیار پر پورا نہ اترنے پر فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کے خلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30403946</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Aug 2024 19:37:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/12172020814a5cd.webp?r=193820" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/12172020814a5cd.webp?r=193820"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/U9Xc5LO7tdM/maxresdefault.jpg?r=193820" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/U9Xc5LO7tdM/mqdefault.jpg?r=193820"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=U9Xc5LO7tdM"/>
        <media:title>General Faiz Hameed arrested - Breaking - Aaj News
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
