<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:12:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:12:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی میں بجلی کی لاگت 9 روپے یونٹ رہی، بل 80 روپے سے کیوں آرہا ہے؟ گوہر اعجاز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30405102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق نگراں وزیر تجارت  گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے 3 پیسے رہی، اس کے باوجود 40 سے 70 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل کیوں جاری کیے جارہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں بجلی کی کل اوسط پیداوار 20000 میگاواٹ تھی جس میں سے 35 فیصد بجلی یعنی 7000 میگاواٹ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق نگراں وزیر نے سوال اٹھایا  کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے تین پیسے فی یونٹ رہی، جب ایندھن کی قیمت 9.03 روپے فی یونٹ ہے تو بل کیسے 40، 60، یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30405016/"&gt;آئی پی پیز سے متعلق جس نے غلط پالیسی بنائی اسے کٹہرے میں لایا جائے، علی پرویز&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں  نے مزید کہا کہ پاکستان صرف اس بجلی کی ادائیگی کر سکتا ہے جوحقیقت میں پیدا ہوتی ہے۔ ملک کے پاس 43,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی پیداوارکی صلاحیت ہے، لیکن بنیادی مسئلہ مجموعی بد انتظامی کے ساتھ پیدا نہ ہونے والی بجلی کے استعدادی چارجز کی ادائیگی ہے، کیپسٹی چارجز سے رہائشی، تجارتی، صنعتی، اور زرعی تمام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30405085/"&gt;بجلی ریلیف پیکج: حکومت پنجاب کا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو پیشگی ادائیگی کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوپر اعجاز نے کہا کہ  پنجاب حکومت کا 500 یونٹس کے صارفین کو 2 ماہ کے لیے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینا قابل تعریف ہے، لیکن وفاقی حکومت کو تمام صارفین رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی کو انصاف دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق نگراں وزیر تجارت  گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے 3 پیسے رہی، اس کے باوجود 40 سے 70 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل کیوں جاری کیے جارہے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں بجلی کی کل اوسط پیداوار 20000 میگاواٹ تھی جس میں سے 35 فیصد بجلی یعنی 7000 میگاواٹ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی۔</p>
<p>سابق نگراں وزیر نے سوال اٹھایا  کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے تین پیسے فی یونٹ رہی، جب ایندھن کی قیمت 9.03 روپے فی یونٹ ہے تو بل کیسے 40، 60، یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30405016/">آئی پی پیز سے متعلق جس نے غلط پالیسی بنائی اسے کٹہرے میں لایا جائے، علی پرویز</a></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انھوں  نے مزید کہا کہ پاکستان صرف اس بجلی کی ادائیگی کر سکتا ہے جوحقیقت میں پیدا ہوتی ہے۔ ملک کے پاس 43,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی پیداوارکی صلاحیت ہے، لیکن بنیادی مسئلہ مجموعی بد انتظامی کے ساتھ پیدا نہ ہونے والی بجلی کے استعدادی چارجز کی ادائیگی ہے، کیپسٹی چارجز سے رہائشی، تجارتی، صنعتی، اور زرعی تمام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30405085/">بجلی ریلیف پیکج: حکومت پنجاب کا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو پیشگی ادائیگی کا فیصلہ</a></p>
<p>گوپر اعجاز نے کہا کہ  پنجاب حکومت کا 500 یونٹس کے صارفین کو 2 ماہ کے لیے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینا قابل تعریف ہے، لیکن وفاقی حکومت کو تمام صارفین رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی کو انصاف دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30405102</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Aug 2024 18:22:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/181811125a68580.webp?r=182032" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/181811125a68580.webp?r=182032"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
