<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 10:19:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 10:19:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی سی بی کے کوریج سے روکنے پر صحافیوں کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30406873/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے صحافیوں کو میچز کی کوریج سے روکنے کے معاملے پر اسپورٹس جرنلسٹس نے اسلام آباد میں درخواست جمع کروا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوریج سے روکنے کے معاملے پر صحافیوں نے ایڈووکیٹ عبدالواحد قریشی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، درخواست سینیئر صحافی ایاز اکبر، محسن علی ، حسنین لیاقت، نوید گلزار اور احمر نجیب کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں وفاق، پیٹرن انچیف وزیر اعظم، سیکریٹری کابینہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں صحافیوں کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم پرفارمنس کے بعد ہونے والی تنقید گراں گزری، صحافی بطور رپورٹرز اور اینکرز صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کو پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش پہلے ٹیسٹ میچ کی کوریج سے روکا گیا ہے، آرٹیکل 19 اور 19 اے آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، کرکٹ بورڈ صحافیوں کو صحافتی ذمہ داری ادا کرنے سے نہیں روک سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کا کہنا ہے کہ ہم متعدد قومی، بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کرچکے ہیں، ہم نے کئی ورلڈکپ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور چیمپیئنز ٹرافیز کی بھی کوریج کی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیں کوریج کے آئینی حق سے محروم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں صحافیوں نے کہا کہ انہیں کوریج سے روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی کارکردگی کے بعد ہونے والی تنقید گراں گزری ہے، صحافیوں کو کوریج سے روکنا آزادی صحافت کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف تنقید کی بنیاد پر صحافیوں پر کرکٹ کوریج پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، استدعا کی صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈز جاری کیے جائیں اور صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈ جاری نہ کرنے کا عمل غیر قانونی قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے صحافیوں کو میچز کی کوریج سے روکنے کے معاملے پر اسپورٹس جرنلسٹس نے اسلام آباد میں درخواست جمع کروا دی۔</strong></p>
<p>کوریج سے روکنے کے معاملے پر صحافیوں نے ایڈووکیٹ عبدالواحد قریشی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، درخواست سینیئر صحافی ایاز اکبر، محسن علی ، حسنین لیاقت، نوید گلزار اور احمر نجیب کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔</p>
<p>درخواست میں وفاق، پیٹرن انچیف وزیر اعظم، سیکریٹری کابینہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں صحافیوں کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم پرفارمنس کے بعد ہونے والی تنقید گراں گزری، صحافی بطور رپورٹرز اور اینکرز صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کو پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش پہلے ٹیسٹ میچ کی کوریج سے روکا گیا ہے، آرٹیکل 19 اور 19 اے آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، کرکٹ بورڈ صحافیوں کو صحافتی ذمہ داری ادا کرنے سے نہیں روک سکتا۔</p>
<p>صحافیوں کا کہنا ہے کہ ہم متعدد قومی، بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کرچکے ہیں، ہم نے کئی ورلڈکپ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور چیمپیئنز ٹرافیز کی بھی کوریج کی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیں کوریج کے آئینی حق سے محروم کردیا ہے۔</p>
<p>درخواست میں صحافیوں نے کہا کہ انہیں کوریج سے روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیم کی کارکردگی کے بعد ہونے والی تنقید گراں گزری ہے، صحافیوں کو کوریج سے روکنا آزادی صحافت کے خلاف ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ صرف تنقید کی بنیاد پر صحافیوں پر کرکٹ کوریج پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، استدعا کی صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈز جاری کیے جائیں اور صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈ جاری نہ کرنے کا عمل غیر قانونی قرار دیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30406873</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Aug 2024 17:00:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/27165704feede8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/27165704feede8d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
