<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 14:17:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 14:17:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو بدنام کرنے والے قانون کے تحت کراچی کے جوزف پریرا کو بھارتی شہریت مل گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30407109/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی سے تعلق رکھنے والے جوزف پریرا بھارت میں شہریت کے نئے قانون کے تحت ریاست گوا کی شہریت پانے والے پہلے باشندے بن گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;78 سالہ جوزف فرانسس پریرا تعلیم کے لیے بہت چھوٹی عمر میں گوا سے پاکستان آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو رہے تھے۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے بعد پاکستان میں ملازمت کی اور شہریت بھی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2013 میں وہ بھارت چلے گئے تھے تاہم اُنہیں شہریت اب دی گئی ہے۔ انہوں نے گوا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے شادی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوا کے وزیرِاعلیٰ پرمود ساونت نے بدھ کو ایک تقریب میں جوزف فرانسس پریرا کو بھارتی شہریت کا سرٹیفکیٹ دیا۔ نئے بھارتی قانونِ شہریت کے تحت شہریت پانے والے وہ ساحلی ریاست گوا کے پہلے باشندے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405969"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی سرکار نے 2019 میں شہریت کا متنازع ترمیم شدہ قانون منظور اور نافذ کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 کو یا اِس قبل پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت آکر آباد ہونے والے ہندو، سکھ، جین، پارسی، بدھسٹ یا مسیحی باشندوں کو شہرت دی جاسکتی ہے۔ یہ قانون پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان کو بدنام کرنے کی سازش کے سوا کچھ نہیں۔ مودی سرکار نے کہا تھا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ان تینوں اسلامی ممالک میں مظالم کا سامنا ہے وہ بھارت کی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/245711/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ae%d8%b7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba"&gt;بھارتی مسلمانوں کی شہریت بھی خطرے میں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1946 میں پیدا ہونے والے جوزف فرانسس پریرا نے گوا کی ماریہ سے شادی کی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 11 ستمبر 2013 کو بھارت چلے گئے تھے۔ گوا کے محکمہ داخلہ نے ریاست میں بسے ہوئے ایسے ہی دوسرے بہت سے افراد کو بھی شہریت دینے کے انتظامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30376705/"&gt;بھارتی سپریم کورٹ متنازع قانون کیخلاف 200 سے زائد درخواستوں پر آج سماعت کرے گی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30376239/"&gt;شہریت کے متنازع قانون پر اسدالدین اویسی بھارتی سپریم کورٹ پہنچ گئے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی سے تعلق رکھنے والے جوزف پریرا بھارت میں شہریت کے نئے قانون کے تحت ریاست گوا کی شہریت پانے والے پہلے باشندے بن گئے ہیں۔</strong></p>
<p>78 سالہ جوزف فرانسس پریرا تعلیم کے لیے بہت چھوٹی عمر میں گوا سے پاکستان آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو رہے تھے۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے بعد پاکستان میں ملازمت کی اور شہریت بھی حاصل کی۔</p>
<p>2013 میں وہ بھارت چلے گئے تھے تاہم اُنہیں شہریت اب دی گئی ہے۔ انہوں نے گوا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے شادی کی تھی۔</p>
<p>گوا کے وزیرِاعلیٰ پرمود ساونت نے بدھ کو ایک تقریب میں جوزف فرانسس پریرا کو بھارتی شہریت کا سرٹیفکیٹ دیا۔ نئے بھارتی قانونِ شہریت کے تحت شہریت پانے والے وہ ساحلی ریاست گوا کے پہلے باشندے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405969"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مودی سرکار نے 2019 میں شہریت کا متنازع ترمیم شدہ قانون منظور اور نافذ کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 کو یا اِس قبل پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت آکر آباد ہونے والے ہندو، سکھ، جین، پارسی، بدھسٹ یا مسیحی باشندوں کو شہرت دی جاسکتی ہے۔ یہ قانون پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان کو بدنام کرنے کی سازش کے سوا کچھ نہیں۔ مودی سرکار نے کہا تھا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو ان تینوں اسلامی ممالک میں مظالم کا سامنا ہے وہ بھارت کی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/245711/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ae%d8%b7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba">بھارتی مسلمانوں کی شہریت بھی خطرے میں</a></p>
<p>1946 میں پیدا ہونے والے جوزف فرانسس پریرا نے گوا کی ماریہ سے شادی کی تھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 11 ستمبر 2013 کو بھارت چلے گئے تھے۔ گوا کے محکمہ داخلہ نے ریاست میں بسے ہوئے ایسے ہی دوسرے بہت سے افراد کو بھی شہریت دینے کے انتظامات کیے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30376705/">بھارتی سپریم کورٹ متنازع قانون کیخلاف 200 سے زائد درخواستوں پر آج سماعت کرے گی</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30376239/">شہریت کے متنازع قانون پر اسدالدین اویسی بھارتی سپریم کورٹ پہنچ گئے</a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30407109</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Aug 2024 20:00:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/2819411743d367c.webp?r=194142" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/2819411743d367c.webp?r=194142"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
