<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:34:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:34:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فارما سیکٹر : قیمتوں پر کنٹرول ختم کرنے سے سیلز میں 22 فیصد اضافہ، 330 کروڑ ڈالر ہوگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30407513/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں فارما سیکٹر کی سیلز میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں یہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ تبدیلی قیمتوں پر کنٹرول ختم کرنے (ڈی ریگیولیشن) کی بدولت ممکن ہو پائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے آئی کیو وی آئی اے کے ڈیٹا کی بنیاد پر بتائی ہے۔ آئی کیو سی آئی اے ایک بڑی ہیلتھ کیئر ڈیٹا کمپنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024 کے دوران دواؤں کی فروخت میں ہونے والا یہ اضافہ گزشتہ پانچ سال کے کمپاؤنڈ اینیوئل گروتھ ریٹ 17 فیصد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہ ماہی کی بنیاد پر ملک کے فارما سیکٹر نے مسلسل چوتھی سہ ماہی کی سب سے زیادہ فروخت 237 ارب روپے (86 کروڑ ڈالر) ریکارڈ کی جو گزشتہ برس کی اِسی مدت کی سیلز کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 فیصد اضافہ تو قیمتوں میں اضافے کی بلند ہے اور 5 فیصد اضافہ فروخت کے حجم میں اضافے کی بنیاد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں فارما سیکٹر مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ مقامی اداروں کا شیئر اس مارکیٹ میں زیادہ ہے۔ اہم دواساز اداروں میں گیٹز فارما، دی سرل کمپنی اور فیروز سنز لیباریٹرز نمایاں ہیں۔ اہم بین الاقوامی کمپنیوں میں گلیگزو اسمتھ کلائن اور ایبٹ لیباریٹرز نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دواؤں کی فروخت میں اضافہ حکومت کی طرف سے قیمتوں پر سے کنٹرول ختم کرنے اور فروری 2024 میں 146 دواؤں کی قیمت میں ایک بار کے اضافے سے ممکن ہوسکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے 6 فروری 2024 کو ناگزیر نہ سمجھی جانے والی دواؤں کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی تھی۔ 22 فروری 2024 کو لاہور کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں اس حوالے سے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 اپریل 2024 کو لاہور ہائی کورٹ نے فارما انڈسٹری کے حق میں رولنگ دی جس سے دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے تعین کے حوالے سے کنٹرول ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیمتوں پر سے کنٹرول ختم ہرنے سے دواساز اداروں کے لیے اضافی لاگت کو صارفین تک منتقل کرنے میں مدد ملے گی اور یوں ان کے خام منافع میں اضافہ ہوسکے گا۔ اس وقت فارما سیکٹر میں خام منافع کی شرح ایک عشرے کی کم ترین سطح یعنی 26 فیصد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30377057/"&gt;صحت کے کس شعبے سے فارما سیکٹر کی چاندی ہوگئی؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30401341/"&gt;پاکستان میں صحت کے شعبہ کو تحقیق اور ادویات کی کمی کا چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں فارما سیکٹر کی سیلز میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں یہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ یہ تبدیلی قیمتوں پر کنٹرول ختم کرنے (ڈی ریگیولیشن) کی بدولت ممکن ہو پائی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے آئی کیو وی آئی اے کے ڈیٹا کی بنیاد پر بتائی ہے۔ آئی کیو سی آئی اے ایک بڑی ہیلتھ کیئر ڈیٹا کمپنی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024 کے دوران دواؤں کی فروخت میں ہونے والا یہ اضافہ گزشتہ پانچ سال کے کمپاؤنڈ اینیوئل گروتھ ریٹ 17 فیصد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>سہ ماہی کی بنیاد پر ملک کے فارما سیکٹر نے مسلسل چوتھی سہ ماہی کی سب سے زیادہ فروخت 237 ارب روپے (86 کروڑ ڈالر) ریکارڈ کی جو گزشتہ برس کی اِسی مدت کی سیلز کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>20 فیصد اضافہ تو قیمتوں میں اضافے کی بلند ہے اور 5 فیصد اضافہ فروخت کے حجم میں اضافے کی بنیاد پر ہے۔</p>
<p>پاکستان میں فارما سیکٹر مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ مقامی اداروں کا شیئر اس مارکیٹ میں زیادہ ہے۔ اہم دواساز اداروں میں گیٹز فارما، دی سرل کمپنی اور فیروز سنز لیباریٹرز نمایاں ہیں۔ اہم بین الاقوامی کمپنیوں میں گلیگزو اسمتھ کلائن اور ایبٹ لیباریٹرز نمایاں ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دواؤں کی فروخت میں اضافہ حکومت کی طرف سے قیمتوں پر سے کنٹرول ختم کرنے اور فروری 2024 میں 146 دواؤں کی قیمت میں ایک بار کے اضافے سے ممکن ہوسکا ہے۔</p>
<p>حکومت نے 6 فروری 2024 کو ناگزیر نہ سمجھی جانے والی دواؤں کی قیمت میں اضافے کی منظوری دی تھی۔ 22 فروری 2024 کو لاہور کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں اس حوالے سے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2 اپریل 2024 کو لاہور ہائی کورٹ نے فارما انڈسٹری کے حق میں رولنگ دی جس سے دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے تعین کے حوالے سے کنٹرول ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیمتوں پر سے کنٹرول ختم ہرنے سے دواساز اداروں کے لیے اضافی لاگت کو صارفین تک منتقل کرنے میں مدد ملے گی اور یوں ان کے خام منافع میں اضافہ ہوسکے گا۔ اس وقت فارما سیکٹر میں خام منافع کی شرح ایک عشرے کی کم ترین سطح یعنی 26 فیصد پر ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30377057/">صحت کے کس شعبے سے فارما سیکٹر کی چاندی ہوگئی؟</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30401341/">پاکستان میں صحت کے شعبہ کو تحقیق اور ادویات کی کمی کا چیلنج</a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30407513</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Aug 2024 17:18:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/3017152525d7737.webp?r=171807" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/3017152525d7737.webp?r=171807"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
