<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:03:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:03:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکیس فیصد یورپی نوجوان دبئی منتقل ہونے کے خواہشمند، سروے رپورٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30407680/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی نے یورپی شہریوں کی خاص توجہ حاصل کرلی، ان کے لیے ایک پسندیدہ مقام بھی بن گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سروے رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے 18 سے 34 سال کے چوالیس فیصد ملینئرز کسی دوسرے ملک منتقل ہونا چاہتے ہیں اور ان میں سے اکیس فیصد کا انتخاب یو اے ای ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے کروڑ پتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹیکسز میں اضافے اور ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں جس کے باعث ان کی بڑی تعداد کسی دوسرے ملک منتقل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سے بتیس فیصد کینیڈا اور اکتیس فیصد امریکا منتقل ہونا چاہتے ہیں، جس کے بعد اکیس فیصد کی پسند متحدہ عرب امارات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق رواں سال کے آخر تک 6 ہزار 700 کروڑ پتی شخصیات دبئی کو اپنا مستقل گھر بنا سکتے ہیں۔ صفر ٹیکس، گولڈن ویزا، لگژری لائف اسٹائل اور اسٹریٹیجک لوکیشن نے یو اے ای کو ہجرت کرنے والے ملینئرز کی پسندیدہ ترین منزل بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کی طرف سے دس سالہ گولڈن ویزا کے حوالے سے شرائط مزید نرم کرنے کے نتیجے میں گزشتہ چند برس کے دوران تارکین وطن، بزنس مین کی بڑی تعداد نے دبئی کا رخ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی نے یورپی شہریوں کی خاص توجہ حاصل کرلی، ان کے لیے ایک پسندیدہ مقام بھی بن گیا۔</strong></p>
<p>ایک سروے رپورٹ کے مطابق برطانیہ اور فرانس کے 18 سے 34 سال کے چوالیس فیصد ملینئرز کسی دوسرے ملک منتقل ہونا چاہتے ہیں اور ان میں سے اکیس فیصد کا انتخاب یو اے ای ہے.</p>
<p>رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے کروڑ پتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹیکسز میں اضافے اور ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں جس کے باعث ان کی بڑی تعداد کسی دوسرے ملک منتقل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سے بتیس فیصد کینیڈا اور اکتیس فیصد امریکا منتقل ہونا چاہتے ہیں، جس کے بعد اکیس فیصد کی پسند متحدہ عرب امارات ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404879"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اندازے کے مطابق رواں سال کے آخر تک 6 ہزار 700 کروڑ پتی شخصیات دبئی کو اپنا مستقل گھر بنا سکتے ہیں۔ صفر ٹیکس، گولڈن ویزا، لگژری لائف اسٹائل اور اسٹریٹیجک لوکیشن نے یو اے ای کو ہجرت کرنے والے ملینئرز کی پسندیدہ ترین منزل بنا دیا ہے۔</p>
<p>دبئی کی طرف سے دس سالہ گولڈن ویزا کے حوالے سے شرائط مزید نرم کرنے کے نتیجے میں گزشتہ چند برس کے دوران تارکین وطن، بزنس مین کی بڑی تعداد نے دبئی کا رخ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30407680</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Aug 2024 15:56:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/08/31142650233537f.png?r=155615" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/08/31142650233537f.png?r=155615"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
