<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 04:02:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 04:02:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی پی پیزکیخلاف تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل، پاور پلانٹس میں اضافی منافع خوری کی نشاندہی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30407836/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈیپنڈنٹ پاور  پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے خلاف جاری تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئیں جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی پیک کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرلی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیوں اور کیپسٹی پیمنٹس کے معاملے پر حکومت کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے آئی پی پیز بارے معاملات پر ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے سی پیک کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرلی، مزید تفصیلات کے لیے 13 آئی پی پیز مالکان کو کل اسلام آباد طلب کیا گیا ہے جبکہ آئی پی پیز مالکان کو فنانشل رپورٹس بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30404872/"&gt;آئی پی پیز معاہدوں کی تفصیلات جلد ظاہر کیے جانے کا امکان، کمیٹی کی اندورنی کہانی سامنے آگئی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30407756/"&gt;کسان اتحاد کا آئی پی پیز مالکان کے گھروں اور دفاتر کے باہر احتجاج کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30406138/"&gt;آئی پی پیز سے معاہدہ ختم نہیں کرسکتے، نئی شرائط پرآمادہ کررہے ہیں، اویس لغاری&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کے سینئر ایگزیکٹیوزکو مختلف شہروں میں پوچھ گچھ کے بعد اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، آئی پی پیز مالکان کو باورکروایا جائے گا کہ ملک کو اس وقت ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30407608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن محمد علی تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، آئی پی پیز مالکان سے 2021 میں ہونے والی تحقیقات کے طرز پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے بااثر ارکان نے ریکارڈ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے مختلف پلانٹس کا دورہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق چینی آئی پی پیز سے رعایت حاصل کرنے کے لیے حکومتی ٹیم اعلیٰ سطح پر بات کرے گی جبکہ سرکاری پاورپلانٹس کے کپیسٹی پیمنٹ اور منافع میں بھی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاور ڈویژن نے آئی  پی پیز مالکان کی طلبی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی نے کل کسی بھی آئی پی پیز مالک کو طلب نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈیپنڈنٹ پاور  پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے خلاف جاری تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئیں جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی پیک کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرلی۔</strong></p>
<p>آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیوں اور کیپسٹی پیمنٹس کے معاملے پر حکومت کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے آئی پی پیز بارے معاملات پر ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے سی پیک کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کی اضافی منافع خوری کی نشاندہی کرلی، مزید تفصیلات کے لیے 13 آئی پی پیز مالکان کو کل اسلام آباد طلب کیا گیا ہے جبکہ آئی پی پیز مالکان کو فنانشل رپورٹس بھی ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30404872/">آئی پی پیز معاہدوں کی تفصیلات جلد ظاہر کیے جانے کا امکان، کمیٹی کی اندورنی کہانی سامنے آگئی</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30407756/">کسان اتحاد کا آئی پی پیز مالکان کے گھروں اور دفاتر کے باہر احتجاج کا اعلان</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30406138/">آئی پی پیز سے معاہدہ ختم نہیں کرسکتے، نئی شرائط پرآمادہ کررہے ہیں، اویس لغاری</a></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز کے سینئر ایگزیکٹیوزکو مختلف شہروں میں پوچھ گچھ کے بعد اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، آئی پی پیز مالکان کو باورکروایا جائے گا کہ ملک کو اس وقت ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30407608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن محمد علی تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، آئی پی پیز مالکان سے 2021 میں ہونے والی تحقیقات کے طرز پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے بااثر ارکان نے ریکارڈ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے مختلف پلانٹس کا دورہ بھی کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق چینی آئی پی پیز سے رعایت حاصل کرنے کے لیے حکومتی ٹیم اعلیٰ سطح پر بات کرے گی جبکہ سرکاری پاورپلانٹس کے کپیسٹی پیمنٹ اور منافع میں بھی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاور ڈویژن نے آئی  پی پیز مالکان کی طلبی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی نے کل کسی بھی آئی پی پیز مالک کو طلب نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30407836</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Sep 2024 14:54:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/011423253da888d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/011423253da888d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
