<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 04:32:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 04:32:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور کی سڑکوں سے غیرضروری بلاکس اور رکاوٹیں ہٹانے کیلئے درخواست دائر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30407952/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائیکورٹ میں شہر کی سڑکوں سے غیرضروری بلاکس اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ پشاور کے تمام سڑکوں کا سروے کرکے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر یوسف علی نے مہوش محب کاکاخیل ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،ڈپٹی کمشنر پشاور، میئرپشاور،ڈی جی پی ڈی اے، ٹریفک پولیس حکام ودیگر کو فریق بنایاگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پشاور کے اہم اور مصروف ترین شاہراہوں شیرشاہ سوری روڈ، کوہاٹ روڈ، رنگ روڈ، چارسدہ روڈ وغیرہ پر جگہ جگہ بلاکس اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس سے نہ صرف حادثات رونما ہورہے ہیں بلکہ اس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اسی طرح ان شاہراہوں پرغیرضروری سپیڈ بریکرز اور کھلے مین ہول وغیرہ بھی موجود ہیں جو حادثا ت کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار کے مطابق پبلک سیفٹی کے لیے جہاں پر تعمیراتی کام ہورہا ہو یا بلاک رکھے گئے ہوں وہاں پر باقاعدہ سائن بورڈ وغیرہ نصب کرنے چاہیئے تاکہ شہری پہلے سے باخبر ہوں، اسی طرح یہ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو مانیٹر کرے اور رات کے وقت سڑکوں پر رکھے گئے بلاکس کو باقاعدہ زرد رنگ دینا چاہیئے یا اس پر وارننگ سائن نصب کیے جائیں تاکہ اس کی نشاندہی ہوسکے کیونکہ اس طرح کے اقدامات نہ کرنا رائیٹ ٹو لائف (آرٹیکل9) کی بھی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ حکام کو احکامات دیے جائیں کہ وہ پشاور کے تمام سڑکوں کا سروے کرے اور تمام غیرضروری رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے اور سڑکوں اور گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اقدامات اٹھانے کے احکامات بھی دیے جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائیکورٹ میں شہر کی سڑکوں سے غیرضروری بلاکس اور رکاوٹیں ہٹانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ پشاور کے تمام سڑکوں کا سروے کرکے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا جائے۔</strong></p>
<p>ڈاکٹر یوسف علی نے مہوش محب کاکاخیل ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،ڈپٹی کمشنر پشاور، میئرپشاور،ڈی جی پی ڈی اے، ٹریفک پولیس حکام ودیگر کو فریق بنایاگیا۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پشاور کے اہم اور مصروف ترین شاہراہوں شیرشاہ سوری روڈ، کوہاٹ روڈ، رنگ روڈ، چارسدہ روڈ وغیرہ پر جگہ جگہ بلاکس اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس سے نہ صرف حادثات رونما ہورہے ہیں بلکہ اس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اسی طرح ان شاہراہوں پرغیرضروری سپیڈ بریکرز اور کھلے مین ہول وغیرہ بھی موجود ہیں جو حادثا ت کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>درخواست گزار کے مطابق پبلک سیفٹی کے لیے جہاں پر تعمیراتی کام ہورہا ہو یا بلاک رکھے گئے ہوں وہاں پر باقاعدہ سائن بورڈ وغیرہ نصب کرنے چاہیئے تاکہ شہری پہلے سے باخبر ہوں، اسی طرح یہ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو مانیٹر کرے اور رات کے وقت سڑکوں پر رکھے گئے بلاکس کو باقاعدہ زرد رنگ دینا چاہیئے یا اس پر وارننگ سائن نصب کیے جائیں تاکہ اس کی نشاندہی ہوسکے کیونکہ اس طرح کے اقدامات نہ کرنا رائیٹ ٹو لائف (آرٹیکل9) کی بھی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ حکام کو احکامات دیے جائیں کہ وہ پشاور کے تمام سڑکوں کا سروے کرے اور تمام غیرضروری رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے اور سڑکوں اور گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اقدامات اٹھانے کے احکامات بھی دیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30407952</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Sep 2024 09:33:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کامران علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/020931123f81bb0.jpg?r=093229" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/020931123f81bb0.jpg?r=093229"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
