<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:36:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:36:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا حکومت کا کرپشن کے خلاف تحقیقات کے تفتیشی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30408021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبرپختونخوا حکومت نے کرپشن کے خلاف تحقیقات کے تفتیشی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، جس کے تحت بغیر ٹھوس ثبوت کے انٹی کرپشن کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کر سکے گا، کوئی بھی انکوائری شروع کرنے سے قبل لیگل سرٹیفیکیٹ جمع کرنا لازمی ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کے سٹرکچر اور تحقیقات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جو صوبائی حکومت کرارسال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمے میں بہتر تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، اب بغیر ٹھوس ثبوت کے انٹی کرپشن کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کر سکے گا، کوئی تفتیش مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کے بغیر نہیں کی جائے گی جبکہ سی آئی ٹی کے تحت انکوائری ایک آفیسر کے بجائے اب تین افسران کریں گے، صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 افسران پر مشتمل ہوگی، ٹیکنیکل، لیگل اور دیگر ماہرین شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایک تفتیشی افسر کسی ملزم سے تفتیش اکیلے میں نہیں کرے گا اور نہ ہی سرکاری دفتر کے علاوہ تفتیشی افسر کی ون آن ون ملاقات کسی بھی مقام پر کی جائے گی، شکایت موصول ہونے کی صورت میں شکایات کی تصدیق قائم ہونے والے مرکزی تصدیقی سیل سے کی جائے گی جبکہ تصدیقی سیل کے فیصلے کے بغیر کسی شکایت پر تحقیقات کا آغاز نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی انکوائری شروع کرنے سے قبل لیگل سرٹیفیکیٹ جمع کرنا لازمی ہوگا کہ یہ انکوائری قابل تفتیش ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبرپختونخوا حکومت نے کرپشن کے خلاف تحقیقات کے تفتیشی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، جس کے تحت بغیر ٹھوس ثبوت کے انٹی کرپشن کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کر سکے گا، کوئی بھی انکوائری شروع کرنے سے قبل لیگل سرٹیفیکیٹ جمع کرنا لازمی ہوگا۔</strong></p>
<p>سرکاری ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کے سٹرکچر اور تحقیقات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جو صوبائی حکومت کرارسال کیا جائے گا۔</p>
<p>سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمے میں بہتر تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، اب بغیر ٹھوس ثبوت کے انٹی کرپشن کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کر سکے گا، کوئی تفتیش مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کے بغیر نہیں کی جائے گی جبکہ سی آئی ٹی کے تحت انکوائری ایک آفیسر کے بجائے اب تین افسران کریں گے، صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 افسران پر مشتمل ہوگی، ٹیکنیکل، لیگل اور دیگر ماہرین شریک ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408007"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایک تفتیشی افسر کسی ملزم سے تفتیش اکیلے میں نہیں کرے گا اور نہ ہی سرکاری دفتر کے علاوہ تفتیشی افسر کی ون آن ون ملاقات کسی بھی مقام پر کی جائے گی، شکایت موصول ہونے کی صورت میں شکایات کی تصدیق قائم ہونے والے مرکزی تصدیقی سیل سے کی جائے گی جبکہ تصدیقی سیل کے فیصلے کے بغیر کسی شکایت پر تحقیقات کا آغاز نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی انکوائری شروع کرنے سے قبل لیگل سرٹیفیکیٹ جمع کرنا لازمی ہوگا کہ یہ انکوائری قابل تفتیش ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30408021</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Sep 2024 14:09:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب الدین)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/02140804a7b148c.jpg?r=140834" type="image/jpeg" medium="image" height="428" width="760">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/02140804a7b148c.jpg?r=140834"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
