<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:22:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 11:22:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>121 سال پرانے پوسٹ کارڈ نے بچھڑے بہن بھائی کو ملا دیا، دلچسپ واقعہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30408157/121-year-old-postcard-reunites-siblings</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کے موجودہ دور میں پیغام رسانی کیلئے واٹس ایپ سمیت دیگر میسیجنگ ایپلیکیشن صارف کی آسانی کیلئے دستیاب ہیں، جس میں سیکنڈوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک میسج پیاروں کو پہنچ جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ماضی میں پیغامات کو وصول کرنے کے لیے لوگوں کو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ برطانیہ میں ایک پوسٹ کارڈ جسے مہینے یا سال نہیں بلکہ 121 برس پہلے ڈاک کے ذریعے ایک خاتون کو بھیجا گیا تھا وہ اب جاکر ایک فیملی کے پاس پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچھڑے بہن بھائیوں کو ملانے والے اس پوسٹ کارڈ نے ناجانے کہاں کہاں کا سفر طے کیا،اتنے سالوں بعد درست منزل پر پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30267437"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک پوسٹ کارڈ ویلز میں 121 سال بعد پہنچا۔ ویلز میں سوانسی کے علاقے کی سوانسی بلڈنگ سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دیگر میل کے ساتھ ایک پوسٹ کارڈ بھی جمعے کو اس کی کریڈاک اسٹریٹ والے پتے پر پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/03085945a1c0305.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکائی نیوز کے مطابق پوسٹ کارڈ سوانسی بلڈنگ سوسائٹی میں پہنچا جہاں ہیلن رابرٹس کے دادا کا بچپن کا گھر ہوا کرتا تھا اور وہ اب بھی اس علاقے میں رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ پوسٹ کارڈ بھیجنے والا شخص اپنے دادا دادی کے گھر ٹھہرا ہوا تھا جس نے پوسٹ کارڈ اپنی بہن کو بھیجا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ میں لکھا تھا کہ پیاری بہن مجھے بہت افسوس ہے لیکن مجھے امید ہے کہ آپ گھر پر لطف اندوز ہو رہی ہوں گی۔ میرے پاس اب تقریباً 10/- شلنگز جیب خرچ کے طور پر ہیں، 121 سال پرانا پوسٹ کارڈ پڑھیں تو مجھے مس گلبرٹ اور جان کو یاد رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلن رابرٹس اپنی فیملی کو آن لائن ٹریس بھی کر رہی تھیں جب پوسٹ کارڈ کے انٹرنیٹ پر پہلی بار شیئر ہوا تو انہیں بھی یہ پیغام موصول ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/0309010643994a1.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیلن رابرٹس کا کہنا تھا کہ ایک انٹرنیٹ صارف نے یہ کہانی سوشل میڈیا پر دیکھی، پھر اس نے اس شخص کو تلاش کرنے کے لیے نسب نامے کی ویب سائٹ کا استعمال کیا جس سے پوسٹ کارڈ کا خطاب تھا، اور پھر اسے میرے خاندان کے افراد سے جوڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابرٹس کے مطابق جیسے ہی میں نے یہ ایڈریس اور نام دیکھا تو میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ بچپن میں میرے دادا کا خاندانی گھر ہے اور لیڈیا اس کی بہن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر کار ہیلن رابرٹس اور اس کی بہن مارگریٹ کی اپنے اہلخانہ ملاقات کی: نک ڈیوس (پوسٹ کارڈ لکھنے والے شخص کا پوتا) اور فیتھ رینالڈس (جس شخص کو پوسٹ کارڈ بھیجا گیا تھا اس کی نواسی)۔ یہ سب ایک ساتھ اکٹھا ہوگئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کے موجودہ دور میں پیغام رسانی کیلئے واٹس ایپ سمیت دیگر میسیجنگ ایپلیکیشن صارف کی آسانی کیلئے دستیاب ہیں، جس میں سیکنڈوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک میسج پیاروں کو پہنچ جاتا ہے۔</strong></p>
<p>لیکن ماضی میں پیغامات کو وصول کرنے کے لیے لوگوں کو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا تھا۔</p>
<p>جیسا کہ برطانیہ میں ایک پوسٹ کارڈ جسے مہینے یا سال نہیں بلکہ 121 برس پہلے ڈاک کے ذریعے ایک خاتون کو بھیجا گیا تھا وہ اب جاکر ایک فیملی کے پاس پہنچا۔</p>
<p>بچھڑے بہن بھائیوں کو ملانے والے اس پوسٹ کارڈ نے ناجانے کہاں کہاں کا سفر طے کیا،اتنے سالوں بعد درست منزل پر پہنچا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30267437"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک پوسٹ کارڈ ویلز میں 121 سال بعد پہنچا۔ ویلز میں سوانسی کے علاقے کی سوانسی بلڈنگ سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دیگر میل کے ساتھ ایک پوسٹ کارڈ بھی جمعے کو اس کی کریڈاک اسٹریٹ والے پتے پر پہنچا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/03085945a1c0305.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اسکائی نیوز کے مطابق پوسٹ کارڈ سوانسی بلڈنگ سوسائٹی میں پہنچا جہاں ہیلن رابرٹس کے دادا کا بچپن کا گھر ہوا کرتا تھا اور وہ اب بھی اس علاقے میں رہتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ پوسٹ کارڈ بھیجنے والا شخص اپنے دادا دادی کے گھر ٹھہرا ہوا تھا جس نے پوسٹ کارڈ اپنی بہن کو بھیجا تھا۔</p>
<p>پوسٹ میں لکھا تھا کہ پیاری بہن مجھے بہت افسوس ہے لیکن مجھے امید ہے کہ آپ گھر پر لطف اندوز ہو رہی ہوں گی۔ میرے پاس اب تقریباً 10/- شلنگز جیب خرچ کے طور پر ہیں، 121 سال پرانا پوسٹ کارڈ پڑھیں تو مجھے مس گلبرٹ اور جان کو یاد رکھیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلن رابرٹس اپنی فیملی کو آن لائن ٹریس بھی کر رہی تھیں جب پوسٹ کارڈ کے انٹرنیٹ پر پہلی بار شیئر ہوا تو انہیں بھی یہ پیغام موصول ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/0309010643994a1.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ہیلن رابرٹس کا کہنا تھا کہ ایک انٹرنیٹ صارف نے یہ کہانی سوشل میڈیا پر دیکھی، پھر اس نے اس شخص کو تلاش کرنے کے لیے نسب نامے کی ویب سائٹ کا استعمال کیا جس سے پوسٹ کارڈ کا خطاب تھا، اور پھر اسے میرے خاندان کے افراد سے جوڑا۔</p>
<p>رابرٹس کے مطابق جیسے ہی میں نے یہ ایڈریس اور نام دیکھا تو میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ بچپن میں میرے دادا کا خاندانی گھر ہے اور لیڈیا اس کی بہن ہے۔</p>
<p>آخر کار ہیلن رابرٹس اور اس کی بہن مارگریٹ کی اپنے اہلخانہ ملاقات کی: نک ڈیوس (پوسٹ کارڈ لکھنے والے شخص کا پوتا) اور فیتھ رینالڈس (جس شخص کو پوسٹ کارڈ بھیجا گیا تھا اس کی نواسی)۔ یہ سب ایک ساتھ اکٹھا ہوگئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30408157</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Sep 2024 09:06:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/030857145959e94.png?r=090654" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/030857145959e94.png?r=090654"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
