<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 06:45:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 06:45:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نسلی منافرت کی انتہا، امریکا میں تین سالہ فلسطینی بچی کے قتل کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30408759/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک امریکی عورت کو تین سالہ فلسطینی بچی کے قتلِ عمد کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس اقدامِ قتل سے بچی کی حالت نازک ہوگئی۔ ڈاکٹرز نے دن رات ایک کرکے بچی کو بچایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;42 سالہ الزابیتھ وُلف نے اپنے نام کی ’لاج‘ رکھتے ہوئے واقعی بھیڑیے والا کام کیا۔ یہ واقعہ گزشتہ مئی میں رونما ہوا تھا جب ڈیلاس فورٹ ورتھ کے نواحی علاقے یولیس کی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے سوئمنگ پول پر الزابیتھ وُلف کا ایک فلسطینی خاتون سے جھگڑا ہوا۔ فلسطینی نژاد امریکی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ الزابیتھ وُلف نے اُس سے نسلی شںاخت پوچھی جس پر جھگڑا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھگڑے کے دوران الزابیتھ نے مشتعل ہوکر فلسطینی خاتون کی تین سالہ بچی کو دبوچ کر سوئمنگ پول میں ڈبکیاں دیں اور اُسے مارنے کی کوشش کی۔ بچی اس گھناؤنی حرکت کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرنٹ کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے دو ماہ تک تحقیقات کے بعد یہ رائے قائم کی کہ الزابیتھ نے جو کچھ کیا وہ نسلی منافرت پر مبنی عمل تھا اور ساتھ ہی ساتھ اُس نے تین سالہ بچی کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔ دونوں جرائم کی پاداش میں اُسے طویل مدت کی سزائے قید بھی سُنائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والے بہت سے گروپوں اور انجمنوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں نسلی منافرت کا گراف تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ ان گروپوں اور غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں سے بھی نفرت بڑھ رہی ہے اور یہودیوں سے بھی۔ نسلی منافرت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں معاشرتی عدم توازن واقع ہو رہا ہے۔ غزہ میں جاری لڑائی کے باعث امریکا میں آباد یہودیوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک امریکی عورت کو تین سالہ فلسطینی بچی کے قتلِ عمد کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس اقدامِ قتل سے بچی کی حالت نازک ہوگئی۔ ڈاکٹرز نے دن رات ایک کرکے بچی کو بچایا۔</strong></p>
<p>42 سالہ الزابیتھ وُلف نے اپنے نام کی ’لاج‘ رکھتے ہوئے واقعی بھیڑیے والا کام کیا۔ یہ واقعہ گزشتہ مئی میں رونما ہوا تھا جب ڈیلاس فورٹ ورتھ کے نواحی علاقے یولیس کی ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کے سوئمنگ پول پر الزابیتھ وُلف کا ایک فلسطینی خاتون سے جھگڑا ہوا۔ فلسطینی نژاد امریکی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ الزابیتھ وُلف نے اُس سے نسلی شںاخت پوچھی جس پر جھگڑا ہوا۔</p>
<p>جھگڑے کے دوران الزابیتھ نے مشتعل ہوکر فلسطینی خاتون کی تین سالہ بچی کو دبوچ کر سوئمنگ پول میں ڈبکیاں دیں اور اُسے مارنے کی کوشش کی۔ بچی اس گھناؤنی حرکت کے نتیجے میں شدید زخمی ہوگئی۔</p>
<p>ٹیرنٹ کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے دو ماہ تک تحقیقات کے بعد یہ رائے قائم کی کہ الزابیتھ نے جو کچھ کیا وہ نسلی منافرت پر مبنی عمل تھا اور ساتھ ہی ساتھ اُس نے تین سالہ بچی کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔ دونوں جرائم کی پاداش میں اُسے طویل مدت کی سزائے قید بھی سُنائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والے بہت سے گروپوں اور انجمنوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں نسلی منافرت کا گراف تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ ان گروپوں اور غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں سے بھی نفرت بڑھ رہی ہے اور یہودیوں سے بھی۔ نسلی منافرت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں معاشرتی عدم توازن واقع ہو رہا ہے۔ غزہ میں جاری لڑائی کے باعث امریکا میں آباد یہودیوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30408759</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Sep 2024 16:30:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/0516275933a38d0.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/0516275933a38d0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
