<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:55:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:55:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کھانے کے رنگ سے انسانی جسم کے اندرونی حصے دیکھے جا سکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ رنگ جسے ہم اکثر اپنے کھانوں میں دیکھتے ہیں، وہ آج طبی تحقیقات کی دنیا میں ایک نئی دریافت لے کر آیا ہے۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ اس رنگ کو جسم کے مختلف حصوں پر لگا کران کی اندرونی ساختیں دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سانفرانسیسکو کی اسٹین فورڈ  یونی ورسٹی  کے محققین نے ایک عام کھانے کے رنگ کے ذریعے انسانی جسم کی جلد، پٹھوں اور کنیکٹو ٹشو کو عارضی طور پر شفاف بنا دیا ہے۔  جس  کے لئے کھانے کے رنگ کو چوہے کے پیٹ پرلگانے کے بعد محققین نے اس کے جگر، آنتوں اور مثانے کو واضح طور پر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، چوہے کے سر پر رنگ لگانے کے بعد، اس کے دماغ میں خون کی شریانوں کو بھی دیکھا گیا۔ یہ عمل حیرت انگیز  ثابت ہوا ہے  کیونکہ یہ  رنگ  پٹھوں اور جلد میں روشنی کے پھیلاؤ کو کم کرتا ہے، جس سے وہ شفاف ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سائنسی دریافت کے فوائد بہت وسیع ہیں  کیونکہ   اس کا استعمال ڈاکٹروں کو پیچیدہ ٹیومر کی شناخت میں مدد فراہم کر سکتا ہے، خون کی شریانوں کو آسانی سے دیکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے، اور معدے کی بیماریوں کی نگرانی کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ رنگ عارضی طور پر شفافیت فراہم کرتا ہے، اور جب اسے دھویا جاتا ہے، تو جلد اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتی ہے۔
اگرچہ یہ تکنیک ابھی انسانوں پر آزمائش کے مرحلے میں ہے، لیکن ماہرین کو امیدیں ہیں کہ  مستقبل میں اس کے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ رنگ جسے ہم اکثر اپنے کھانوں میں دیکھتے ہیں، وہ آج طبی تحقیقات کی دنیا میں ایک نئی دریافت لے کر آیا ہے۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ اس رنگ کو جسم کے مختلف حصوں پر لگا کران کی اندرونی ساختیں دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔</strong></p>
<p>سانفرانسیسکو کی اسٹین فورڈ  یونی ورسٹی  کے محققین نے ایک عام کھانے کے رنگ کے ذریعے انسانی جسم کی جلد، پٹھوں اور کنیکٹو ٹشو کو عارضی طور پر شفاف بنا دیا ہے۔  جس  کے لئے کھانے کے رنگ کو چوہے کے پیٹ پرلگانے کے بعد محققین نے اس کے جگر، آنتوں اور مثانے کو واضح طور پر دیکھا۔</p>
<p>اسی طرح، چوہے کے سر پر رنگ لگانے کے بعد، اس کے دماغ میں خون کی شریانوں کو بھی دیکھا گیا۔ یہ عمل حیرت انگیز  ثابت ہوا ہے  کیونکہ یہ  رنگ  پٹھوں اور جلد میں روشنی کے پھیلاؤ کو کم کرتا ہے، جس سے وہ شفاف ہو جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سائنسی دریافت کے فوائد بہت وسیع ہیں  کیونکہ   اس کا استعمال ڈاکٹروں کو پیچیدہ ٹیومر کی شناخت میں مدد فراہم کر سکتا ہے، خون کی شریانوں کو آسانی سے دیکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے، اور معدے کی بیماریوں کی نگرانی کے لئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ رنگ عارضی طور پر شفافیت فراہم کرتا ہے، اور جب اسے دھویا جاتا ہے، تو جلد اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتی ہے۔
اگرچہ یہ تکنیک ابھی انسانوں پر آزمائش کے مرحلے میں ہے، لیکن ماہرین کو امیدیں ہیں کہ  مستقبل میں اس کے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409009</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Sep 2024 19:53:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/061951406b57c43.jpg?r=195152" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/061951406b57c43.jpg?r=195152"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
