<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 04:19:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 09 Jun 2026 04:19:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو روکنے کا بیک ڈور طریقہ ڈھونڈ نکالا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409186/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام کے لیے ایک بیک ڈور طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ امریکا سے معاہدے کے تحت پناما نے 130 بھارتی باشندوں کو ملک بدر کردیا ہے۔ ان بھارتی باشندوں کو ملک بدر کرنے کے عوض پناما کو امریکا سے 60 لاکھ ڈالر ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بتایا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن وسطی امریکا کے ممالک السلواڈور، پناما اور کوسٹاریکا سے ہوتے ہوئے میکسیکو پہنچ کر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت افریقا، جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے باشندوں کی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسطی امریکا کے لیے امریکی سیکیورٹی اتاشی مارلین پنیرو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پناما نے امریکا خصوصی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو میکسیکو پہنچنے سے پہلے ہی ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پناما کے ڈائریکٹر امیگریشن راجر موجیکا نے کہا ہے کہ 130 بھارت باشندوں کو خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے اُن کے وطن واپس بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30400379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا سے خصوصی معاہدے کے تحت پناما نے دو ہفتوں کے دوران 219 غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کرکے اُن کے وطن واپس بھیجا ہے۔ واضح رہے کہ میکسیکو کے راستے میکسیکن باشندوں کے علاوہ افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن بھی بڑی تعداد میں سرحد عبور کرکے امریکا میں داخل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام کے لیے ایک بیک ڈور طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ امریکا سے معاہدے کے تحت پناما نے 130 بھارتی باشندوں کو ملک بدر کردیا ہے۔ ان بھارتی باشندوں کو ملک بدر کرنے کے عوض پناما کو امریکا سے 60 لاکھ ڈالر ملیں گے۔</p>
<p>امریکی حکام نے بتایا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن وسطی امریکا کے ممالک السلواڈور، پناما اور کوسٹاریکا سے ہوتے ہوئے میکسیکو پہنچ کر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت افریقا، جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے باشندوں کی ہوتی ہے۔</p>
<p>وسطی امریکا کے لیے امریکی سیکیورٹی اتاشی مارلین پنیرو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پناما نے امریکا خصوصی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو میکسیکو پہنچنے سے پہلے ہی ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔</p>
<p>پناما کے ڈائریکٹر امیگریشن راجر موجیکا نے کہا ہے کہ 130 بھارت باشندوں کو خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے اُن کے وطن واپس بھیجا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30400379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکا سے خصوصی معاہدے کے تحت پناما نے دو ہفتوں کے دوران 219 غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کرکے اُن کے وطن واپس بھیجا ہے۔ واضح رہے کہ میکسیکو کے راستے میکسیکن باشندوں کے علاوہ افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن بھی بڑی تعداد میں سرحد عبور کرکے امریکا میں داخل ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409186</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Sep 2024 16:51:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/07165121a1b1731.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/07165121a1b1731.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
