<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 21:05:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 21:05:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سائنسدانوں نے بچپن کی نابینائی کا حل تلاش کرلیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409193/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین نے بتایا ہے کہ موروثی بیماری سے بچپن میں زائل ہو جانے والی بینائی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ ایسا جین تھیراپی کی مدد سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبر کانجینیٹل ایموروسز نامی موروثی بیماری کے باعث کبھی کبھی بچپن میں بینائی زائل ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری خاصی کم پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں یہ بیماری ایک لاکھ سے بھی کم افراد کو لاحق ہوئی ہے۔ GUCY2D نامی نامی جین کی خرابی سے اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہرین نے بچوں کو بڑوں میں قرنیے کے نیچے انجیکشن لگائے ہیں جو نئی جین تھیراپی پر مبنی ہے۔ اس سے نتائج بہت حوصلہ افزا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30380411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ تحقیقی مقالے کے مصنف آرٹر سیڈیشیان کہتے ہیں کہ نئی تحقیق بہت حوصلہ افزا ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی سے محروم ہو جانے والے دوبارہ اِس دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جین تھیراپی سے عمومی حالت میں بصارت کے ضیاع کا علاج بھی وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس دنیا کی رونقیں دیکھنے یا دوبارہ دیکھنے کے قابل بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین نے بتایا ہے کہ موروثی بیماری سے بچپن میں زائل ہو جانے والی بینائی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ ایسا جین تھیراپی کی مدد سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبر کانجینیٹل ایموروسز نامی موروثی بیماری کے باعث کبھی کبھی بچپن میں بینائی زائل ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری خاصی کم پائی جاتی ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں یہ بیماری ایک لاکھ سے بھی کم افراد کو لاحق ہوئی ہے۔ GUCY2D نامی نامی جین کی خرابی سے اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔</p>
<p>امریکی کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہرین نے بچوں کو بڑوں میں قرنیے کے نیچے انجیکشن لگائے ہیں جو نئی جین تھیراپی پر مبنی ہے۔ اس سے نتائج بہت حوصلہ افزا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30380411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متعلقہ تحقیقی مقالے کے مصنف آرٹر سیڈیشیان کہتے ہیں کہ نئی تحقیق بہت حوصلہ افزا ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی سے محروم ہو جانے والے دوبارہ اِس دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔</p>
<p>امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جین تھیراپی سے عمومی حالت میں بصارت کے ضیاع کا علاج بھی وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس دنیا کی رونقیں دیکھنے یا دوبارہ دیکھنے کے قابل بنایا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409193</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Sep 2024 17:19:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/0717130490203ff.webp?r=171322" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/0717130490203ff.webp?r=171322"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
