<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:45:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:45:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے دو تہائی سیٹلائٹس کا کنٹرول ایلون مسک کے ہاتھ میں آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409466/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے زمین کے ساتھ ساتھ خلا میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ اس وقت زمین کے مدار میں گردش کرنے والے دو تہائی مصنوعی سیاروں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی سیاروں سے متعلق معلومات رکھنے والے گروپ سیلس ٹریک نے تبایا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس 62 فیصد فعال سیٹلائٹس کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ان کی تعداد 6370 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس نے 2019 میں اپنا پہلا سیٹلائٹ لانچ کیا۔ اس کے بعد سے وہ یومیہ 3 کے اوسط سے مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیج رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کے زیرِتصرف مصنوعی سیاروں کی تعداد برطانوی حریف ادارے وین ویب کے مصنوعی سیاروں کی تعداد سے 10 گنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین پر روسی لشکر کشی کے بعد سے ویب ویب بھی اپنے سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کے لیے اسپیس ایکس پر منحصر ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کنیکٹیویٹی فراہم کرنے والا اسٹار لنک کانسٹیلیشن 102 ملکوں میں فعال ہے اور اِس کے صارفین کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس 42 ہزار سیٹلائٹس لانچ کرنا چاہتا ہے۔ اقتصادی اور انٹرنیٹ سے متعلق پابندیوں کے باعث ایران، شمالی کوریا، چین، افغانستان، روس اور شام کو اسپیس ایکس کی فہرست سے فی الحال باہر رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے زمین کے ساتھ ساتھ خلا میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ اس وقت زمین کے مدار میں گردش کرنے والے دو تہائی مصنوعی سیاروں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی سیاروں سے متعلق معلومات رکھنے والے گروپ سیلس ٹریک نے تبایا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس 62 فیصد فعال سیٹلائٹس کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ان کی تعداد 6370 ہے۔</p>
<p>اسپیس ایکس نے 2019 میں اپنا پہلا سیٹلائٹ لانچ کیا۔ اس کے بعد سے وہ یومیہ 3 کے اوسط سے مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیج رہی ہے۔</p>
<p>ایلون مسک کے زیرِتصرف مصنوعی سیاروں کی تعداد برطانوی حریف ادارے وین ویب کے مصنوعی سیاروں کی تعداد سے 10 گنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوکرین پر روسی لشکر کشی کے بعد سے ویب ویب بھی اپنے سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کے لیے اسپیس ایکس پر منحصر ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کنیکٹیویٹی فراہم کرنے والا اسٹار لنک کانسٹیلیشن 102 ملکوں میں فعال ہے اور اِس کے صارفین کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔</p>
<p>اسپیس ایکس 42 ہزار سیٹلائٹس لانچ کرنا چاہتا ہے۔ اقتصادی اور انٹرنیٹ سے متعلق پابندیوں کے باعث ایران، شمالی کوریا، چین، افغانستان، روس اور شام کو اسپیس ایکس کی فہرست سے فی الحال باہر رکھا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409466</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Sep 2024 23:31:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/082321538c6079d.webp?r=232353" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/082321538c6079d.webp?r=232353"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
