<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:24:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:24:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ ملک جہاں کسان جانوروں کا فضلہ فروخت کر کے ڈالرز کما رہے ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409741/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کسی جانور کا فضلہ اچھی رقم میں فروخت ہو تصور کرنا مشکل لگتا ہے۔ مگر ایک ملک میں ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صومالیہ میں جانوروں کا فضلہ چرواہے کھاد کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کر رہے تھے لیکن اب متعدد علاقوں میں زرعی زمینوں کیلئے جانوروں کے فضلے کو کھاد میں ڈال کر استعمال کرنے رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سومالیہ کے شمالی سینٹرل مودوگ کے علاقے میں زراعت اور پھلوں کی انڈسٹریز سے وابستہ کسانوں نے جانوروں سے حاصل ہونے والی اس کھاد سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/158157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ حرین نامی کسان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارے کسان جانوروں کے فضلے کو کھاد میں ڈال کر استعمال کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب سے گاؤں کے لوگوں میں اس کی سمجھ بڑھی ہے تب سے لوگ اپنے گھروں میں بھی پودے لگا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گالکائیو شہر اور اس کے گردونواح میں فضلے سے بنی کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت بھی بڑھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ عام طور پر مختلف قسم کی کھاد استعمال کی جاتی ہے۔ زراعت کے لیے کھاد کی بہترین قسم گائے کا فضلہ ہے۔ چونکہ اس علاقے میں گائے کم ہیں اس لیے ہم بکری کا فضلہ استعمال کرتے ہیں جو کہ اور بھی زیادہ فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/1009213828cc831.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان نے بتایا کہ پہلے کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت تقریباً تیس ڈالر تھی لیکن اب اس کی قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ حرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت 55 سے 65 ڈالر کے درمیان ہے، مجھے یاد ہے ایک وہ وقت تھا جب لوگ خود ہماری منتیں کرتے تھے، ہمیں فون کرتے اور کہتے کہ آؤ کھاد اٹھا لو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’لیکن اب اگر آپ گوبر کے پاس جا کر کھڑے بھی ہوں تو وہ کہیں گے ’اگر تم نے کھاد خریدنی نہیں ہے تو ہمارا وقت ضائع نہیں کرو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کسی جانور کا فضلہ اچھی رقم میں فروخت ہو تصور کرنا مشکل لگتا ہے۔ مگر ایک ملک میں ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صومالیہ میں جانوروں کا فضلہ چرواہے کھاد کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کر رہے تھے لیکن اب متعدد علاقوں میں زرعی زمینوں کیلئے جانوروں کے فضلے کو کھاد میں ڈال کر استعمال کرنے رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>سومالیہ کے شمالی سینٹرل مودوگ کے علاقے میں زراعت اور پھلوں کی انڈسٹریز سے وابستہ کسانوں نے جانوروں سے حاصل ہونے والی اس کھاد سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/158157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مصطفیٰ حرین نامی کسان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارے کسان جانوروں کے فضلے کو کھاد میں ڈال کر استعمال کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب سے گاؤں کے لوگوں میں اس کی سمجھ بڑھی ہے تب سے لوگ اپنے گھروں میں بھی پودے لگا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گالکائیو شہر اور اس کے گردونواح میں فضلے سے بنی کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت بھی بڑھی ہے۔</p>
<p>مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ عام طور پر مختلف قسم کی کھاد استعمال کی جاتی ہے۔ زراعت کے لیے کھاد کی بہترین قسم گائے کا فضلہ ہے۔ چونکہ اس علاقے میں گائے کم ہیں اس لیے ہم بکری کا فضلہ استعمال کرتے ہیں جو کہ اور بھی زیادہ فائدہ مند ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/1009213828cc831.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کسان نے بتایا کہ پہلے کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت تقریباً تیس ڈالر تھی لیکن اب اس کی قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔</p>
<p>مصطفیٰ حرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کھاد کے ایک تھیلے کی قیمت 55 سے 65 ڈالر کے درمیان ہے، مجھے یاد ہے ایک وہ وقت تھا جب لوگ خود ہماری منتیں کرتے تھے، ہمیں فون کرتے اور کہتے کہ آؤ کھاد اٹھا لو۔</p>
<p>’لیکن اب اگر آپ گوبر کے پاس جا کر کھڑے بھی ہوں تو وہ کہیں گے ’اگر تم نے کھاد خریدنی نہیں ہے تو ہمارا وقت ضائع نہیں کرو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409741</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Sep 2024 09:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/10091335c5200d9.png?r=091632" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/10091335c5200d9.png?r=091632"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
