<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:42:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:42:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس طار ق محمود جہانگیری ڈگری کیس: عدالت نے ایف آئی اے کو انکوائری سے روک دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30409878/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طار ق محمود جہانگیری کی ڈگری کا معاملہ عدالت نے جسٹسس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے متعلق ایف آئی اے کو انکوائری سے روک دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی بار ایسوسی ایشن  کے صدر عامر نواز وڑائچ کی درخواست پر سماعت  سندھ ہائیکورٹ میں  ہوئی جہاں عدالت نے جسٹسس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے متعلق ایف آئی اے کو انکوائری سے روک دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ جامعہ کراچی کی ان فیئر مینز کمیٹی اور سنڈیکیٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری غیر مؤثر قرار دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین اور متعدد صحافیوں نے مبینہ طور پر سندھ ٹرانسپیرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، 2016 کے تحت معلومات طلب کرنے والی درخواست کے جواب میں جاری کردہ ایک خط شئیر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امیدوار طارق محمود نے 1991 میں انرولمنٹ نمبر 5968 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق محمود نے انرولمنٹ نمبر 7124 کے تحت ایل ایل بی پارٹ ون کے لیے داخلہ لیا، خط میں ڈگری کو بوگس قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے غلط قرار دیا گیا، اور وضاحت کی گئی کہ یونیورسٹی پورے ڈگری پروگرام کے لیے ایک انرولمنٹ نمبر جاری کرتی ہے، یعنی ایک پروگرام کے لیے کسی طالب علم کا دو انرولمنٹ رکھنا ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے پیمرا  کو ہدایت کی کہ کراچی یونیورسٹی کی ان فیئر مینس کمیٹی کے فیصلے کی بنیاد پر خبر نہیں چلنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار عامر نواز وڑائچ کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ایف آئی اے نے انکوائری کر رہی ہے، اگر کوئی شکایت ہے تو سپریم جوڈیشل کائونسل کا فورم موجود ہے،  ایف آئی اے کو انکوائری نہیں کرسکتی، سندھ ہائیکورٹ 5 ستمبر کو تمام کارروائی سے روک رکھا ہے، جسٹس جہانگیر کے خلاف اس لئے مہم چلائی جا رہی کیونکہ چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے والے ججز میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس طارق محمود جہانگیری اور دیگر ججز نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کے مداخلت سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طار ق محمود جہانگیری کی ڈگری کا معاملہ عدالت نے جسٹسس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے متعلق ایف آئی اے کو انکوائری سے روک دیا۔</strong></p>
<p>کراچی بار ایسوسی ایشن  کے صدر عامر نواز وڑائچ کی درخواست پر سماعت  سندھ ہائیکورٹ میں  ہوئی جہاں عدالت نے جسٹسس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے متعلق ایف آئی اے کو انکوائری سے روک دیا ۔</p>
<p>خیال رہے کہ جامعہ کراچی کی ان فیئر مینز کمیٹی اور سنڈیکیٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری غیر مؤثر قرار دی تھی۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین اور متعدد صحافیوں نے مبینہ طور پر سندھ ٹرانسپیرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، 2016 کے تحت معلومات طلب کرنے والی درخواست کے جواب میں جاری کردہ ایک خط شئیر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امیدوار طارق محمود نے 1991 میں انرولمنٹ نمبر 5968 کے تحت ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔</p>
<p>طارق محمود نے انرولمنٹ نمبر 7124 کے تحت ایل ایل بی پارٹ ون کے لیے داخلہ لیا، خط میں ڈگری کو بوگس قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے غلط قرار دیا گیا، اور وضاحت کی گئی کہ یونیورسٹی پورے ڈگری پروگرام کے لیے ایک انرولمنٹ نمبر جاری کرتی ہے، یعنی ایک پروگرام کے لیے کسی طالب علم کا دو انرولمنٹ رکھنا ناممکن ہے۔</p>
<p>آج ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے پیمرا  کو ہدایت کی کہ کراچی یونیورسٹی کی ان فیئر مینس کمیٹی کے فیصلے کی بنیاد پر خبر نہیں چلنی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست گزار عامر نواز وڑائچ کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود ایف آئی اے نے انکوائری کر رہی ہے، اگر کوئی شکایت ہے تو سپریم جوڈیشل کائونسل کا فورم موجود ہے،  ایف آئی اے کو انکوائری نہیں کرسکتی، سندھ ہائیکورٹ 5 ستمبر کو تمام کارروائی سے روک رکھا ہے، جسٹس جہانگیر کے خلاف اس لئے مہم چلائی جا رہی کیونکہ چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھنے والے ججز میں شامل تھے۔</p>
<p>جسٹس طارق محمود جہانگیری اور دیگر ججز نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کے مداخلت سے آگاہ کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30409878</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Sep 2024 22:20:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/10175434843b115.jpg?r=175451" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/10175434843b115.jpg?r=175451"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
