<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 09:01:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 09:01:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شکیب الحسن کے بعد ایک اور بنگلہ دیشی کرکٹر عبوری حکومت کے زیرِ عتاب، مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شکیب الحسن کے بعد ایک اور بنگلہ دیشی کرکٹر عبوری حکومت کے زیرِ عتاب آگئے ہیں اور ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشرفی مرتضیٰ کو ایک مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرفی مرتضٰی کرکٹ سے ریٹائر ہو کر سیاست میں اپنا کرئیر آزما رہے تھے، اور 2018  میں شیخ حسینہ واجد کی حکمران سیاسی جماعت عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔  جس کے بعد وہ ضلع ناریل 2 سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30385119/"&gt;شکیب الحسن کا سیلفی لینے والے مداح پر تشدد، فون بھی چھینے کی کوشش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409791"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک روز قبل ہی ان کی یو ایس ماسٹر ٹی 10 لیگ میں ڈیٹروئٹ فالکنز کی جانب سے منختب کیے جانے پر کرکٹ کے میدان میں واپسی کی خبر آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30407005"&gt;شکیب الحسن کی طرح&lt;/a&gt; ان پر بھی حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کی وجہ بننے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طالب علموں پر حملوں کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کرنے والے طالب علموں پر حملے کے درج مقدمے میں 90 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں مشرفی مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ شیخ مصطفیٰ المجاہد الرحمان کی مدعیت میں ناریل صدر پولیس اسٹیشن میں  درج کیا گیا جس میں مشرفی مرتضیٰ کے والد غلام مرتضٰی کو بھی حملوں کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے متن کے مطابق مشرفی اور ان کے والد نے چار اگست کو کوٹہ اصلاحات کی تحریک کے دوران تیز دھار ہتھیاروں سے لیس دیگر افراد کے ساتھ ناریل موڑ پر ریلی نکالی تھی اور شیخ حسینہ کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کا جلوس جب رسل سیٹو کے قریب پہنچا تو ملزمان نے طلبہ پر حملہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کے متین کے مطابق ملزمان نے احتجاجی طلبہ کے ساتھ جھڑپ کے دوران گولیاں بھی چلائیں، جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شکیب الحسن کے بعد ایک اور بنگلہ دیشی کرکٹر عبوری حکومت کے زیرِ عتاب آگئے ہیں اور ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشرفی مرتضیٰ کو ایک مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>مشرفی مرتضٰی کرکٹ سے ریٹائر ہو کر سیاست میں اپنا کرئیر آزما رہے تھے، اور 2018  میں شیخ حسینہ واجد کی حکمران سیاسی جماعت عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔  جس کے بعد وہ ضلع ناریل 2 سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30385119/">شکیب الحسن کا سیلفی لینے والے مداح پر تشدد، فون بھی چھینے کی کوشش</a></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409791"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم ایک روز قبل ہی ان کی یو ایس ماسٹر ٹی 10 لیگ میں ڈیٹروئٹ فالکنز کی جانب سے منختب کیے جانے پر کرکٹ کے میدان میں واپسی کی خبر آئی تھی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30407005">شکیب الحسن کی طرح</a> ان پر بھی حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کی وجہ بننے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طالب علموں پر حملوں کا الزام ہے۔</p>
<p>احتجاج کرنے والے طالب علموں پر حملے کے درج مقدمے میں 90 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں مشرفی مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ مقدمہ شیخ مصطفیٰ المجاہد الرحمان کی مدعیت میں ناریل صدر پولیس اسٹیشن میں  درج کیا گیا جس میں مشرفی مرتضیٰ کے والد غلام مرتضٰی کو بھی حملوں کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقدمے کے متن کے مطابق مشرفی اور ان کے والد نے چار اگست کو کوٹہ اصلاحات کی تحریک کے دوران تیز دھار ہتھیاروں سے لیس دیگر افراد کے ساتھ ناریل موڑ پر ریلی نکالی تھی اور شیخ حسینہ کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کا جلوس جب رسل سیٹو کے قریب پہنچا تو ملزمان نے طلبہ پر حملہ کردیا۔</p>
<p>مقدمے کے متین کے مطابق ملزمان نے احتجاجی طلبہ کے ساتھ جھڑپ کے دوران گولیاں بھی چلائیں، جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410099</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Sep 2024 16:37:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/111633266825bb9.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/111633266825bb9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
