<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:51:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:51:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیارہ سال میں 10 مردوں کے خلاف 10 مقدمے دائر کرنے والی خاتون عدالت کا بخار بن گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410243/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں ایک خاتون کی مردوں سے نفرت نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی جنوبی ریاست کرناٹک میں ایک خاتون نے گزشتہ 11 سالوں میں 10 مختلف مردوں کے خلاف 10 پولیس شکایتیں درج کرائی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی عدالت نے خاتون کی اس حرکت پر کرناٹک کے اعلیٰ پولیس حکام کو حکم دیا کہ وہ تمام تھانوں کو مذکورہ خاتون مدئی کے بارے میں خبردار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ جج ایم ناگاپراسنا نے خاتون کو مزید جھوٹے مقدمات درج کرنے سے روکنے کا حکم دیا۔ وہ انہیں قانونی نظام کا مزید غلط استعمال کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے خاتون کا ایک مقدمہ خارج کیا جس میں خاتون نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے شوہر کا خاندان اس پر ظلم کرتا ہے۔ جج نے یہ فیصلہ اس کے ماضی کے مقدمات کو دیکھنے کے بعد دیا کہ اس نے مختلف مردوں کے خلاف اسی طرح کے کئی مقدمات درج کرائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30379123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے مشاہدہ کیا کہ خاتون نے پہلی شکایت 2011 میں درج کرائی تھی اور 2015 تک اس نے کئی اور شکایات درج کرائیں۔ ان شکایات میں ایک شخص ہنومیشا پر اسے دھمکیاں دینے اور دوسرے شخص سنتوش پر اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد اس کی عصمت دری کرنے کا الزام لگانا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے مردوں پر عصمت دری، ظلم اور چھیڑ چھاڑ جیسے سنگین جرائم کا الزامات لگائے۔ تمام 10 مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اسی طرح کے الزامات کا واضح نمونہ دیکھا اور فیصلہ کیا کہ خاتون قانونی نظام کا غلط استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کے اس عمل کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں ایک خاتون کی مردوں سے نفرت نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی جنوبی ریاست کرناٹک میں ایک خاتون نے گزشتہ 11 سالوں میں 10 مختلف مردوں کے خلاف 10 پولیس شکایتیں درج کرائی ہیں۔</p>
<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی عدالت نے خاتون کی اس حرکت پر کرناٹک کے اعلیٰ پولیس حکام کو حکم دیا کہ وہ تمام تھانوں کو مذکورہ خاتون مدئی کے بارے میں خبردار کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ جج ایم ناگاپراسنا نے خاتون کو مزید جھوٹے مقدمات درج کرنے سے روکنے کا حکم دیا۔ وہ انہیں قانونی نظام کا مزید غلط استعمال کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے خاتون کا ایک مقدمہ خارج کیا جس میں خاتون نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے شوہر کا خاندان اس پر ظلم کرتا ہے۔ جج نے یہ فیصلہ اس کے ماضی کے مقدمات کو دیکھنے کے بعد دیا کہ اس نے مختلف مردوں کے خلاف اسی طرح کے کئی مقدمات درج کرائے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30379123"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے مشاہدہ کیا کہ خاتون نے پہلی شکایت 2011 میں درج کرائی تھی اور 2015 تک اس نے کئی اور شکایات درج کرائیں۔ ان شکایات میں ایک شخص ہنومیشا پر اسے دھمکیاں دینے اور دوسرے شخص سنتوش پر اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد اس کی عصمت دری کرنے کا الزام لگانا شامل تھا۔</p>
<p>خاتون نے مردوں پر عصمت دری، ظلم اور چھیڑ چھاڑ جیسے سنگین جرائم کا الزامات لگائے۔ تمام 10 مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اسی طرح کے الزامات کا واضح نمونہ دیکھا اور فیصلہ کیا کہ خاتون قانونی نظام کا غلط استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p>خاتون کے اس عمل کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410243</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 10:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/12102401e505ba7.png?r=102615" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/12102401e505ba7.png?r=102615"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
