<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 11:19:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 11:19:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچے کی حوالگی کا معاملہ : دبئی کے عدالتی فیصلے کے آگے برطانوی عدلیہ بے بس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410418/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;والد کی اجازت لیے بغیر بچے کو برطانیہ لے جائے جانے والے بچے کو متحدہ عرب امارات کی عدالت کے حکم پر واپس لیا گیا۔ برطانوی عدلیہ اس معاملے میں بے بس رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیملی کے مستقبل کے تمام فیصلے یو اے ای کی عدالتوں میں طے کیے جائیں گے۔ ایک شیر خوار کو اُس کی والدہ، والد کی اجازت کے بغیر برطانیہ لے گئی تھی۔ یو اے ای کی عدالت کے حکم پر بچے کو دبئی واپس لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کورٹ نے دبئی کو بچے کا ایسا مسکن قرار دیا جس کی اُسے عادت ہے۔ یوں برطانوی عدالت نے والد کے حق کو مقدم رکھتے ہوئے بچے کو دبئی لے جانے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرامس انٹرنیشنل لائرز لمٹیڈ کی سولسٹر، ڈائریکٹر اور بانی ثمرہ اقبال نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے موکل کے ایک بڑا ریلیف ہے۔ اور اس سے بیرونِ ملک مقیم افراد کا یہ حق بھی تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اُن کی اولاد اُن کے پاس ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات کے مطابق بچہ تقریباً دو سال کا ہے اور اُس کے والدین اب شادی شدہ نہیں ہیں۔ ثمرہ اقبال نے کہا کہ ہم نے یو اے ای کے قوانین کے بارے میں ماہرانہ رائے بھی لی اور یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ بچے کے والد اُسے واپس لانے کے حوالے سے عدالت کو قائل کرسکیں۔ اور عدالت قائل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2023 میں اس فیملی نے مستقل طور پر دبئی میں رہنے کے لیے برطانیہ کو چھوڑ دیا تھا۔ بچے کی والدہ اُسے اپریل 2024 میں والد کی اجازت کے بغیر انگلینڈ لے گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کی عدالت نے بچے کو واپس لانے کا حکم تو دیا تھا تاہم ساتھ ہی ساتھ والدہ کو یہ حق دیا تھا کہ وہ نگہداشت کے لیے ساتھ رہیں مگر والدہ نے انگلینڈ میں رہنے کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404078"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثمرہ اقبال نے مزید کہا کہ یو اے ای کے قوانین کے تحت بچے کے والد اب اُس کے اور اُس کی والدہ کے درمیان رابطے یقینی بنارہے ہیں۔ جب تک عدالت بچے کی طویل المیعاد نگہداشت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی تب تک بچہ والد کے پاس یو اے ای میں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثمرہ اقبال نے بتایا کہ اس کیس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر یو اے ای میں کوئی تارکِ وطن اپنے بچے سے غیر قانونی طور پر محروم کردیا جائے تو عدالت اُسے بچے کی حوالگی واپس دلانے کو ترجیح دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>والد کی اجازت لیے بغیر بچے کو برطانیہ لے جائے جانے والے بچے کو متحدہ عرب امارات کی عدالت کے حکم پر واپس لیا گیا۔ برطانوی عدلیہ اس معاملے میں بے بس رہی۔</strong></p>
<p>فیملی کے مستقبل کے تمام فیصلے یو اے ای کی عدالتوں میں طے کیے جائیں گے۔ ایک شیر خوار کو اُس کی والدہ، والد کی اجازت کے بغیر برطانیہ لے گئی تھی۔ یو اے ای کی عدالت کے حکم پر بچے کو دبئی واپس لایا گیا ہے۔</p>
<p>برطانوی ہائی کورٹ نے دبئی کو بچے کا ایسا مسکن قرار دیا جس کی اُسے عادت ہے۔ یوں برطانوی عدالت نے والد کے حق کو مقدم رکھتے ہوئے بچے کو دبئی لے جانے کا حکم دیا۔</p>
<p>آرامس انٹرنیشنل لائرز لمٹیڈ کی سولسٹر، ڈائریکٹر اور بانی ثمرہ اقبال نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے موکل کے ایک بڑا ریلیف ہے۔ اور اس سے بیرونِ ملک مقیم افراد کا یہ حق بھی تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اُن کی اولاد اُن کے پاس ہونی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405207"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالتی دستاویزات کے مطابق بچہ تقریباً دو سال کا ہے اور اُس کے والدین اب شادی شدہ نہیں ہیں۔ ثمرہ اقبال نے کہا کہ ہم نے یو اے ای کے قوانین کے بارے میں ماہرانہ رائے بھی لی اور یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ بچے کے والد اُسے واپس لانے کے حوالے سے عدالت کو قائل کرسکیں۔ اور عدالت قائل ہوگئی۔</p>
<p>دسمبر 2023 میں اس فیملی نے مستقل طور پر دبئی میں رہنے کے لیے برطانیہ کو چھوڑ دیا تھا۔ بچے کی والدہ اُسے اپریل 2024 میں والد کی اجازت کے بغیر انگلینڈ لے گئی۔</p>
<p>یو اے ای کی عدالت نے بچے کو واپس لانے کا حکم تو دیا تھا تاہم ساتھ ہی ساتھ والدہ کو یہ حق دیا تھا کہ وہ نگہداشت کے لیے ساتھ رہیں مگر والدہ نے انگلینڈ میں رہنے کو ترجیح دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30404078"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ثمرہ اقبال نے مزید کہا کہ یو اے ای کے قوانین کے تحت بچے کے والد اب اُس کے اور اُس کی والدہ کے درمیان رابطے یقینی بنارہے ہیں۔ جب تک عدالت بچے کی طویل المیعاد نگہداشت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی تب تک بچہ والد کے پاس یو اے ای میں رہے گا۔</p>
<p>ثمرہ اقبال نے بتایا کہ اس کیس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر یو اے ای میں کوئی تارکِ وطن اپنے بچے سے غیر قانونی طور پر محروم کردیا جائے تو عدالت اُسے بچے کی حوالگی واپس دلانے کو ترجیح دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410418</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 22:34:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/12220303ce278d3.webp?r=220942" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/12220303ce278d3.webp?r=220942"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
