<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:25:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:25:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا بھر میں پراسرار ’بھنبھناہٹ‘ کی آواز، سائنس دانوں کے کان کھڑے ہوگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410821/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں 9 دن تک عجیب سی بھنبھناہٹ سنائی دی جس کے باعث سائنس دان چوکنے ہوگئے۔ پورے کرہ ارض پر سُنائی دینے والی اِس بھنبھناہٹ کے بارے میں مختلف آرا پائی جارہی ہیں۔ عام طور پر زلزلے سے قبل سُنائی دینے والی بھنبھناہٹ اِس سے بہت مختلف ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک وائبریشن فریکوئنسی والی بھنبھناہٹ تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے دنیا بھر میں 9 دن تک سنائی دینے والی اِس بھنبھناہٹ کو یو ایس او یعنی غیر شناخت شدہ مرتعش شے قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اُنہوں نے دنیا بھر میں زلزلہ پیما آلات کی کارکردگی اور ریکارڈنگز کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس بھنبھناہٹ کا منبع ایک بہت بڑی لینڈ سلائیڈنگ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی غیر معمولی قوت دراصل گلیشیرز کے پتلا ہوتے جانے کا نتیجہ تھی۔ ستمبر 2023 میں سائنس دانوں نے دنیا بھر میں یہ ارتعاش مانیٹر کیا تھا۔ اس کے سگنلز بہت عجیب تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دان اس بھنبھناہٹ سے ابتدا میں ایسے الجھے ہوئے رہے کہ اِسے شناخت ہی نہ کر پائے۔ دنیا بھر کے زلزلہ پیما مراکز کی ریکارڈنگز کی جانچ سے معلوم ہوا کہ 10 ہزار اولمپک سوئمنگ پولز کے حجم کے مساوی حجم والا برف اور مٹی کا اجتماعی تودا ٹوٹ کر چٹانی کھائی میں گرا ہے۔ اس کے نتیجے میں 200 میٹر بلند سونامی پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ارتعاش 9 دن تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30336188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے ہاتھوں قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں بہت کچھ الٹ پلٹ رہا ہے۔ زمین ایک متحرک وجود ہے یعنی اِس کے اندر اور باہر ہر سطح پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین کے اندر بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ آلودگی اور قدرتی وسائل کے بلا دریغ استعمال کے نتیجے میں قدرتی ماحول کا ایک بڑا حصہ کچھ کا کچھ ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمگیر سطح پر پائی جانے والی اضافی حدت سے دنیا بھر میں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ بعض علاقوں میں بارشوں کا نظام بدل گیا ہے اور بعض مقامات پر زمین کسی اور طرح برت رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے تحقیق کے مطابق جس چٹانی کھائی میں یہ طوفانی موجیں اٹھیں اُسے ڈکسن جارڈ کہا جاتا ہے۔ مقالے میں درج ہے کہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/71311"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک واقعہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اثرات کتنے اور کہاں تک ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند عشروں کے دوران گلیشیرز سیکڑوں میٹر کی صخامت سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پہاڑوں کی سپورٹ اور گرفتار کمزور پڑچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی کوئی پہاڑی گرتی ہے، زمین میں دور تک ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ماحول کی تبدیلی محض آب و ہوا کو تبدیل نہیں کر رہی بلکہ زیرِزمین بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں 9 دن تک عجیب سی بھنبھناہٹ سنائی دی جس کے باعث سائنس دان چوکنے ہوگئے۔ پورے کرہ ارض پر سُنائی دینے والی اِس بھنبھناہٹ کے بارے میں مختلف آرا پائی جارہی ہیں۔ عام طور پر زلزلے سے قبل سُنائی دینے والی بھنبھناہٹ اِس سے بہت مختلف ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک وائبریشن فریکوئنسی والی بھنبھناہٹ تھی۔</strong></p>
<p>ماہرین نے دنیا بھر میں 9 دن تک سنائی دینے والی اِس بھنبھناہٹ کو یو ایس او یعنی غیر شناخت شدہ مرتعش شے قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اُنہوں نے دنیا بھر میں زلزلہ پیما آلات کی کارکردگی اور ریکارڈنگز کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس بھنبھناہٹ کا منبع ایک بہت بڑی لینڈ سلائیڈنگ تھا۔</p>
<p>یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی غیر معمولی قوت دراصل گلیشیرز کے پتلا ہوتے جانے کا نتیجہ تھی۔ ستمبر 2023 میں سائنس دانوں نے دنیا بھر میں یہ ارتعاش مانیٹر کیا تھا۔ اس کے سگنلز بہت عجیب تھے۔</p>
<p>سائنس دان اس بھنبھناہٹ سے ابتدا میں ایسے الجھے ہوئے رہے کہ اِسے شناخت ہی نہ کر پائے۔ دنیا بھر کے زلزلہ پیما مراکز کی ریکارڈنگز کی جانچ سے معلوم ہوا کہ 10 ہزار اولمپک سوئمنگ پولز کے حجم کے مساوی حجم والا برف اور مٹی کا اجتماعی تودا ٹوٹ کر چٹانی کھائی میں گرا ہے۔ اس کے نتیجے میں 200 میٹر بلند سونامی پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ارتعاش 9 دن تک جاری رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30336188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے ہاتھوں قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں بہت کچھ الٹ پلٹ رہا ہے۔ زمین ایک متحرک وجود ہے یعنی اِس کے اندر اور باہر ہر سطح پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔</p>
<p>زمین کے اندر بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ آلودگی اور قدرتی وسائل کے بلا دریغ استعمال کے نتیجے میں قدرتی ماحول کا ایک بڑا حصہ کچھ کا کچھ ہوچکا ہے۔</p>
<p>عالمگیر سطح پر پائی جانے والی اضافی حدت سے دنیا بھر میں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ بعض علاقوں میں بارشوں کا نظام بدل گیا ہے اور بعض مقامات پر زمین کسی اور طرح برت رہی ہے۔</p>
<p>معروف جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے تحقیق کے مطابق جس چٹانی کھائی میں یہ طوفانی موجیں اٹھیں اُسے ڈکسن جارڈ کہا جاتا ہے۔ مقالے میں درج ہے کہ</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/71311"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ ایک واقعہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اثرات کتنے اور کہاں تک ہوتے ہیں۔</p>
<p>چند عشروں کے دوران گلیشیرز سیکڑوں میٹر کی صخامت سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پہاڑوں کی سپورٹ اور گرفتار کمزور پڑچکی ہے۔</p>
<p>جب بھی کوئی پہاڑی گرتی ہے، زمین میں دور تک ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ماحول کی تبدیلی محض آب و ہوا کو تبدیل نہیں کر رہی بلکہ زیرِزمین بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410821</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Sep 2024 21:46:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/142144536328663.webp?r=214614" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/142144536328663.webp?r=214614"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
