<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 07:27:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 07:27:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائیجیریا میں مسافر کشتی ڈوبنے سے کئی افراد لاپتہ ہوگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائیجیریا کی ریاست زامفارا میں دریا میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کئی مسافر لاپتہ ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق 3 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد 6 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ 64 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق دریا میں دو کشتیوں کے آپس میں ٹکرانے سے یہ حادثہ پیش آیا جس کے باعث 60 سے زائد افراد لاپتہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30406289"&gt;صادق آباد کے مقام پر دریائے سندھ میں چلنے والا کشتی کلینک ڈوب گیا &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشتی میں سوار کسان اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے جس دوران حادثہ پیش آیا اور کشتی پلٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائجیریا کے مقامی کشتی ڈرائیور نے بتایا کہ کشتی میں کئی افراد سوار تھے جس سے اس کا وزن بڑھ گیا، حالانکہ کشتی چلانے سے قبل مسافروں کو بار بار خبردار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشتی کو حادثہ دریا کے عین درمیان میں پیش آیا۔ دوسری کشتی کے ڈرائیور نے مدد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ایک دوسرے سے ہی ٹکرا گئیں اور دونوں کشتیاں ڈوب گئیں۔ لاپتہ ہونے والے مسافروں میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائیجیریا کی ریاست زامفارا میں دریا میں کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کئی مسافر لاپتہ ہوگئے۔</strong></p>
<p>ریسکیو حکام کے مطابق 3 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد 6 افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ 64 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق دریا میں دو کشتیوں کے آپس میں ٹکرانے سے یہ حادثہ پیش آیا جس کے باعث 60 سے زائد افراد لاپتہ ہوگئے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30406289">صادق آباد کے مقام پر دریائے سندھ میں چلنے والا کشتی کلینک ڈوب گیا </a></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشتی میں سوار کسان اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے جس دوران حادثہ پیش آیا اور کشتی پلٹ گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نائجیریا کے مقامی کشتی ڈرائیور نے بتایا کہ کشتی میں کئی افراد سوار تھے جس سے اس کا وزن بڑھ گیا، حالانکہ کشتی چلانے سے قبل مسافروں کو بار بار خبردار کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشتی کو حادثہ دریا کے عین درمیان میں پیش آیا۔ دوسری کشتی کے ڈرائیور نے مدد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ایک دوسرے سے ہی ٹکرا گئیں اور دونوں کشتیاں ڈوب گئیں۔ لاپتہ ہونے والے مسافروں میں مرد خواتین اور بچے شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410864</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Sep 2024 09:41:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/150930246e1b5ff.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/150930246e1b5ff.png"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
