<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:45:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:45:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ کا وہ فیچر جس سے آپ کی نجی تصاویر غیر محفوظ ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30410901/</link>
      <description>&lt;p&gt;میسیجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ ہمیشہ اپنے صارفین کیلئے نئے اور جدید فیچرز سامنے لاتا ہے، لیکن ایک حالیہ اپ ڈیٹ نے واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ صارفین کے زیر استعمال یہ فیچر ہیکرز کو اپنی نجی تصاویر اور چیٹس تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30402169"&gt;بغیر انٹرنیٹ واٹس ایپ استعمال کرنے کا زبردست طریقہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ کا ’ویو ونس‘ فیچر کو بائی پاس کرتے ہوئے صارفین کی نجی تصاویر اور چیٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/151306025ba8a18.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے پیغامات کو پڑھنے کے بعد غائب کرنے، اور محفوظ یا شیئر کرنے کے قابل نہ ہونے کے لیے ’View Once‘ متعارف کرایا ہے۔ تاہم، سائبر سیکیورٹی ماہرین کی نئی دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ پیغامات کو دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ فیچر کے مقصد سے متصادم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبرسیکیوریٹی کے ایک ماہر ٹیل بیئری نے واٹس ایپ کے ’ویو ونس‘ فیچر میں یہ کمزوری پائی۔ یہ صارفین کو ان پیغامات کو کمپیوٹر اور براؤزر پر محفوظ کرنے اور دیکھنے کی اجازت دیتا ہے، حالانکہ وہ صرف موبائل فون کے لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر ٹیم نے دریافت کیا کہ سائبر حملہ آور باآسانی ہیک کیے گئے واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ویو ونس میسجز کو محفوظ کر کے اس کی نقل شیئر بھی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کا ویو ونس فیچر اتنا محفوظ نہیں جتنا لگتا ہے اسے یا تو ٹھیک کرنے یا پھر ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیل بیئری نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ذمہ دارانہ طور پر میٹا کے سامنے یہ حقائق سامنے رکھے، لیکن جب ٹیم کو یہ احساس ہوا کہ اس نقص کا پہلے بے دردی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا چکا ہے تو واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کو محفوظ کرنے کی غرض سے یہ معلومات صارفین کے سامنے پیش کردی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میسیجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ ہمیشہ اپنے صارفین کیلئے نئے اور جدید فیچرز سامنے لاتا ہے، لیکن ایک حالیہ اپ ڈیٹ نے واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ صارفین کے زیر استعمال یہ فیچر ہیکرز کو اپنی نجی تصاویر اور چیٹس تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30402169">بغیر انٹرنیٹ واٹس ایپ استعمال کرنے کا زبردست طریقہ</a></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ کا ’ویو ونس‘ فیچر کو بائی پاس کرتے ہوئے صارفین کی نجی تصاویر اور چیٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/09/151306025ba8a18.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واٹس ایپ نے پیغامات کو پڑھنے کے بعد غائب کرنے، اور محفوظ یا شیئر کرنے کے قابل نہ ہونے کے لیے ’View Once‘ متعارف کرایا ہے۔ تاہم، سائبر سیکیورٹی ماہرین کی نئی دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ پیغامات کو دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ فیچر کے مقصد سے متصادم ہے۔</p>
<p>سائبرسیکیوریٹی کے ایک ماہر ٹیل بیئری نے واٹس ایپ کے ’ویو ونس‘ فیچر میں یہ کمزوری پائی۔ یہ صارفین کو ان پیغامات کو کمپیوٹر اور براؤزر پر محفوظ کرنے اور دیکھنے کی اجازت دیتا ہے، حالانکہ وہ صرف موبائل فون کے لیے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30395936"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سائبر ٹیم نے دریافت کیا کہ سائبر حملہ آور باآسانی ہیک کیے گئے واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ویو ونس میسجز کو محفوظ کر کے اس کی نقل شیئر بھی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہر کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کا ویو ونس فیچر اتنا محفوظ نہیں جتنا لگتا ہے اسے یا تو ٹھیک کرنے یا پھر ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹیل بیئری نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ذمہ دارانہ طور پر میٹا کے سامنے یہ حقائق سامنے رکھے، لیکن جب ٹیم کو یہ احساس ہوا کہ اس نقص کا پہلے بے دردی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا چکا ہے تو واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کو محفوظ کرنے کی غرض سے یہ معلومات صارفین کے سامنے پیش کردی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30410901</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Sep 2024 13:07:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/151304127be8678.png?r=130723" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/151304127be8678.png?r=130723"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
