<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:32:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:32:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا پر وائرل ’باڈی آرمر‘ کی حقیقت جس پر چاقو یا خنجر بھی اثر نہ کرے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30411088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باڈی آرمر جیکٹ بنانے والی کمپنی کی ایک نمائش کے دوران ایک ملازم اپنی نشت سے اٹھ کر کمپنی کے سی ای او پر چاقو، اسکرو ڈرائیور جیسے خطرناک اوزار سے حملہ کر کے (ٹیسٹ) کرتا ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ ان کی بنائی گئی بنیان کتنی پائیدار اور مضبوط ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہو رہی ہے اس دعوے کے ساتھ کہ کیا یہ بنیان واقعی جان کی حفاظت کرسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی سوشل میڈیا صارفین ویڈیو دیکھ کر یہ بھی تبصرہ اور کچھ دعویٰ کررہے ہیں کہ سی ای او پر حملہ کرنے والے ملازم کی یہ خواہش ہے یہ ٹیسٹ فیل ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو رواں ماہ 6 ستمبر کو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/interneth0f/status/1832011076075958624"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پوسٹ کی گئی، جس میں ایک آرگنائزیشن کے ارکان کو دکھایا گیا جو زخمی ہونے سے بچانے والی خاص ’بنیان‘ کی نمائش اور تشہیر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں کمپنی کے سی ای او نے ایک خاص بنیان پہنی ہوئی تھی جو چاقو کے وار سے حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کمپنی کے ملازم نے سی ای او کے سینے اور پیٹ پر پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد بار چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں ایک معمولی خراش بھی نہ آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر یہ ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کو ایسا محسوس ہوا کہ کمپنی کا ملازم اپنے سی ای او سے نفرت کرتا ہے اور وہ یہ چاہتا کہ کسی طرح یہ ٹیسٹ ناکام ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویڈیو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.instagram.com/thesocialmediatimes_/reel/C_nIjlWtj1J/"&gt;یہاں&lt;/a&gt; اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=WQAIii4cGZs"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پر بھی شئیر کی گئی جو وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="حقیقت-کیا-ہے" href="#حقیقت-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حقیقت کیا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کو پی پی ایس ایس گروپ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا، ایک کمپنی جو اعلیٰ معیار کے باڈی آرمر اور حفاظتی پوشاک بناتی ہے۔ جو اپنے بارے میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ppss-group.com/about-us/"&gt;یہاں&lt;/a&gt; تفصیلات بتارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30396532"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو میں کمپنی کی مخصوص واسکٹ کی نمائش کی گئی تھی جو چاقو کے وار سے حفاظت کرتی ہے۔ کیپشن میں وضاحت کی گئی کہ سی ای او، رابرٹ کیزرجنہوں نے اندر واسکٹ پہن رکھی ہے، لوگوں کو یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بنائی گئی پروڈکٹ پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ نمائش 4 دسمبر 2019 کو لندن میں ایک بڑے سیکیورٹی پروگرام میں کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل ویڈیو آرمر جیکٹ کمپنی PPSS Group نے اپنے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=Qq2hkTaeuZs"&gt;یوٹیوب&lt;/a&gt; چینل پر 4 سال قبل پوسٹ کی تھی جو آج دوبارہ وائرل ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باڈی آرمر جیکٹ بنانے والی کمپنی کی ایک نمائش کے دوران ایک ملازم اپنی نشت سے اٹھ کر کمپنی کے سی ای او پر چاقو، اسکرو ڈرائیور جیسے خطرناک اوزار سے حملہ کر کے (ٹیسٹ) کرتا ہے، یہ دکھانے کے لیے کہ ان کی بنائی گئی بنیان کتنی پائیدار اور مضبوط ہے۔</strong></p>
<p>مذکورہ ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل ہو رہی ہے اس دعوے کے ساتھ کہ کیا یہ بنیان واقعی جان کی حفاظت کرسکتی ہے؟</p>
<p>ساتھ ہی سوشل میڈیا صارفین ویڈیو دیکھ کر یہ بھی تبصرہ اور کچھ دعویٰ کررہے ہیں کہ سی ای او پر حملہ کرنے والے ملازم کی یہ خواہش ہے یہ ٹیسٹ فیل ہوجائے۔</p>
<p>یہ ویڈیو رواں ماہ 6 ستمبر کو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/interneth0f/status/1832011076075958624">یہاں</a> پوسٹ کی گئی، جس میں ایک آرگنائزیشن کے ارکان کو دکھایا گیا جو زخمی ہونے سے بچانے والی خاص ’بنیان‘ کی نمائش اور تشہیر کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویڈیو میں کمپنی کے سی ای او نے ایک خاص بنیان پہنی ہوئی تھی جو چاقو کے وار سے حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کمپنی کے ملازم نے سی ای او کے سینے اور پیٹ پر پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد بار چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں ایک معمولی خراش بھی نہ آئی۔</p>
<p>مگر یہ ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کو ایسا محسوس ہوا کہ کمپنی کا ملازم اپنے سی ای او سے نفرت کرتا ہے اور وہ یہ چاہتا کہ کسی طرح یہ ٹیسٹ ناکام ہوجائے۔</p>
<p>مذکورہ ویڈیو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.instagram.com/thesocialmediatimes_/reel/C_nIjlWtj1J/">یہاں</a> اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=WQAIii4cGZs">یہاں</a> پر بھی شئیر کی گئی جو وائرل ہوگئی۔</p>
<h1><a id="حقیقت-کیا-ہے" href="#حقیقت-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حقیقت کیا ہے؟</h1>
<p>ویڈیو کو پی پی ایس ایس گروپ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا تھا، ایک کمپنی جو اعلیٰ معیار کے باڈی آرمر اور حفاظتی پوشاک بناتی ہے۔ جو اپنے بارے میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ppss-group.com/about-us/">یہاں</a> تفصیلات بتارہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30396532"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ویڈیو میں کمپنی کی مخصوص واسکٹ کی نمائش کی گئی تھی جو چاقو کے وار سے حفاظت کرتی ہے۔ کیپشن میں وضاحت کی گئی کہ سی ای او، رابرٹ کیزرجنہوں نے اندر واسکٹ پہن رکھی ہے، لوگوں کو یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ اپنی بنائی گئی پروڈکٹ پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ نمائش 4 دسمبر 2019 کو لندن میں ایک بڑے سیکیورٹی پروگرام میں کی گئی تھی۔</p>
<p>مکمل ویڈیو آرمر جیکٹ کمپنی PPSS Group نے اپنے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=Qq2hkTaeuZs">یوٹیوب</a> چینل پر 4 سال قبل پوسٹ کی تھی جو آج دوبارہ وائرل ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30411088</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Sep 2024 13:29:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/161327329dce2aa.png?r=132828" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/161327329dce2aa.png?r=132828"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
