<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:47:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:47:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہسا امینی کی دوسری برسی پر ایرانی صدر کا ’حجاب‘ سے متعلق بڑا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30411252/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نو مںتخب ایرانی صدر نے مہسا امینی کی دوسری برسی پر کہا ہے کہ حجاب کے معاملے پر اب خواتین کو ’پریشان‘ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق  صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد صدر منتخب ہونے  الے مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ تہران کی اخلاقی پولیس اب خواتین کو حجاب پہننے پر ”پریشان“ نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسعود پیزیشکیان کا بیان 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کی دوسری برسی کے موقع پر سامنے آئے جب اسے مبینہ طور پر حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دوران حراست ہی اس کی موت واقع ہوئی جس سے ملک گیر احتجاج ہوا اور اس میں تقریباً 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون رپورٹر کے سوال کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ملک کی اخلاقی پولیس کو (خواتین) کو حجاب کے معاملے پر سوال نہیں کرنا چاہیے،  میں اس معاملے کی خود نگرانی کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30336648"&gt;ایران میں حجاب کی پابندی کروانے والی پولیس ’گشت ارشاد‘ پھر واپس آگئی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسعود پیزیشکیان کا تبصرہ ایران کے سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیے گئے۔ خاتون صحافی کے ساتھ گفتگو کا کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ پیزشکیان کی پہلی پریس کانفرنس تھی۔  اپنی انتخابی مہم کے دوران مسعود پیزیشکیان نے لازمی حجاب کی پالیسی نافذ کرنے والے پولیس کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے 2022 میں ملک گیر خواتین کی زیرقیادت اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا کی نگرانی بڑھا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نو مںتخب ایرانی صدر نے مہسا امینی کی دوسری برسی پر کہا ہے کہ حجاب کے معاملے پر اب خواتین کو ’پریشان‘ نہیں کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق  صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد صدر منتخب ہونے  الے مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ تہران کی اخلاقی پولیس اب خواتین کو حجاب پہننے پر ”پریشان“ نہیں کرے گی۔</p>
<p>مسعود پیزیشکیان کا بیان 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کی دوسری برسی کے موقع پر سامنے آئے جب اسے مبینہ طور پر حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دوران حراست ہی اس کی موت واقع ہوئی جس سے ملک گیر احتجاج ہوا اور اس میں تقریباً 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>خاتون رپورٹر کے سوال کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ملک کی اخلاقی پولیس کو (خواتین) کو حجاب کے معاملے پر سوال نہیں کرنا چاہیے،  میں اس معاملے کی خود نگرانی کروں گا۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30336648">ایران میں حجاب کی پابندی کروانے والی پولیس ’گشت ارشاد‘ پھر واپس آگئی</a></p>
<p>مسعود پیزیشکیان کا تبصرہ ایران کے سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیے گئے۔ خاتون صحافی کے ساتھ گفتگو کا کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔</p>
<p>جولائی میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ پیزشکیان کی پہلی پریس کانفرنس تھی۔  اپنی انتخابی مہم کے دوران مسعود پیزیشکیان نے لازمی حجاب کی پالیسی نافذ کرنے والے پولیس کی مخالفت کی تھی۔</p>
<p>ایران نے 2022 میں ملک گیر خواتین کی زیرقیادت اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا کی نگرانی بڑھا دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30411252</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Sep 2024 10:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/171039062e50303.webp?r=104021" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/171039062e50303.webp?r=104021"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
