<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - News</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 25 May 2026 04:38:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 25 May 2026 04:38:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسانی دماغ کے ٹشوز میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی پر سائنسدان پریشان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30411420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک حالیہ تحقیق میں برازیل کے سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے ٹشوز میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے۔ یہ پلاسٹک کے ذرات ناک کے اوپر والے دماغی حصے میں ملے ہیں، جو کہ دماغ میں داخل ہونے کا ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالعہ “ JAMA Network Open“ جریدے میں شائع ہوا ہے، جس میں ساؤ پاؤلو میڈیکل اسکول کے محققین شامل ہیں۔ تحقیق نے olfactory bulb پر توجہ مرکوز کی، جو کہ بدبو کی معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ اس حصے کے ذریعے مائیکرو پلاسٹکس دماغ میں داخل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30302137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کی سرکردہ محقق، ڈاکٹر تھیس ماؤاد نے کہا کہ: ”پچھلی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہوا کی آلودگی دماغ تک پہنچتی ہے اور olfactory bulb میں ذرات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بلب مائیکرو پلاسٹکس کے دماغ میں پہنچنے کا پہلا مقام ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے 15 لاشوں کے olfactory bulb کے نمونے حاصل کیے، جن کی عمر 33 سے 100 سال کے درمیان تھی۔ ان میں سے آٹھ لاشوں میں مائیکرو پلاسٹکس ملے، جو 5.5 مائیکرو میٹر سے 26.4 مائیکرو میٹر کے درمیان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ٹیم نے 16 مختلف قسم کے پلاسٹک فائبر اور ذرات دریافت کیے، جن میں سب سے عام پروپیلین تھا، جبکہ دیگر میں پولیامائیڈ، نایلون اور پولی تھیلین وینائل ایسیٹیٹ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ماؤاد نے مزید کہا: ”پروپیلین ہر جگہ پایا جاتا ہے، جیسے فرنیچر، قالین، اور کپڑوں میں۔ ہمارے گھر پلاسٹک سے بھرے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم ان ذرات کے زیادہ تر خطرے میں رہتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے ماہر toxicologist میتھیو کیمپین نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: “ olfactory bulbمیں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی منفرد ہے لیکن حیران کن نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ: ”ناک بنیادی دفاعی نقطہ ہے جو گرد و غبار کو پھیپھڑوں میں جانے سے روکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30409827/"&gt;کورونا لاک ڈاؤن کے دوران نوجوان دماغ کی عمر بڑھ گئی، تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تحقیق olfactory bulb میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ ذرات دماغ کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیکٹیریا اس راستے سے دماغ میں داخل ہو سکتے ہیں تو مائیکرو پلاسٹکس بھی ممکنہ طور پر داخل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک حالیہ تحقیق میں برازیل کے سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے ٹشوز میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے۔ یہ پلاسٹک کے ذرات ناک کے اوپر والے دماغی حصے میں ملے ہیں، جو کہ دماغ میں داخل ہونے کا ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ مطالعہ “ JAMA Network Open“ جریدے میں شائع ہوا ہے، جس میں ساؤ پاؤلو میڈیکل اسکول کے محققین شامل ہیں۔ تحقیق نے olfactory bulb پر توجہ مرکوز کی، جو کہ بدبو کی معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ اس حصے کے ذریعے مائیکرو پلاسٹکس دماغ میں داخل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30302137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کی سرکردہ محقق، ڈاکٹر تھیس ماؤاد نے کہا کہ: ”پچھلی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہوا کی آلودگی دماغ تک پہنچتی ہے اور olfactory bulb میں ذرات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بلب مائیکرو پلاسٹکس کے دماغ میں پہنچنے کا پہلا مقام ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>محققین نے 15 لاشوں کے olfactory bulb کے نمونے حاصل کیے، جن کی عمر 33 سے 100 سال کے درمیان تھی۔ ان میں سے آٹھ لاشوں میں مائیکرو پلاسٹکس ملے، جو 5.5 مائیکرو میٹر سے 26.4 مائیکرو میٹر کے درمیان تھے۔</p>
<p>تحقیقی ٹیم نے 16 مختلف قسم کے پلاسٹک فائبر اور ذرات دریافت کیے، جن میں سب سے عام پروپیلین تھا، جبکہ دیگر میں پولیامائیڈ، نایلون اور پولی تھیلین وینائل ایسیٹیٹ شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر ماؤاد نے مزید کہا: ”پروپیلین ہر جگہ پایا جاتا ہے، جیسے فرنیچر، قالین، اور کپڑوں میں۔ ہمارے گھر پلاسٹک سے بھرے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم ان ذرات کے زیادہ تر خطرے میں رہتے ہیں۔“</p>
<p>یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے ماہر toxicologist میتھیو کیمپین نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: “ olfactory bulbمیں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی منفرد ہے لیکن حیران کن نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ: ”ناک بنیادی دفاعی نقطہ ہے جو گرد و غبار کو پھیپھڑوں میں جانے سے روکتا ہے۔“</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30409827/">کورونا لاک ڈاؤن کے دوران نوجوان دماغ کی عمر بڑھ گئی، تحقیق</a></p>
</blockquote>
<p>اگرچہ یہ تحقیق olfactory bulb میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ ذرات دماغ کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیکٹیریا اس راستے سے دماغ میں داخل ہو سکتے ہیں تو مائیکرو پلاسٹکس بھی ممکنہ طور پر داخل ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30411420</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Sep 2024 12:09:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/181156140625f70.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/181156140625f70.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
