<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 15:26:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 15:26:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کی ناراضی کے باوجود یوکرین کو بھارتی گولا بارود کی فراہمی جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30411744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس کی ناراضی اور مخالفت کے باوجود بھارت نے یوکرین کی افواج کو، بالواسطہ طور پر، اسلحہ اور گولا بارود فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھارتی فیکٹریوں میں تیار کردہ گولا بارود کی بڑی کھیپیں یوکرین بھیجی جاتی رہی ہیں۔ روس نے کم از کم دو مواقع پر اس حوالے سے ناراضی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت براہِ راست گولا بارود بھیجنے کے بجائے یورپی خریداروں کے ذریعے یوکرین کو ڈلیوری دے رہا ہے۔ یورپ کے کئی اداروں نے بھارتی اسلحہ ساز اداروں سے گولا بارود کی بڑی کھیپیں تیار کی ہیں جو مغربی یورپ کے ممالک سے یوکرین روانہ کردی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے بھارتی اسلحہ اور گولا بارود یوکرین پہنچنے پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کم و بیش گیارہ سرکاری اور دفاعی صنعتوں کے حکام کے بقول کریملن چاہتا ہے کہ بھارت یورپی ملکوں کے لیے گولا بارود کی شپمنٹ روکے مگر بھارتی قیادت ایسا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سال سے بھی زائد مدت سے بھارت یورپی ملکوں کو توپ کے گولے، دستی بم، گولیاں اور دیگر اشیا فراہم کر رہا ہے۔ بھارت کے اپنے قوانین کے تحت اسلحہ اور گولا بارود صرف خریدار ہی استعمال کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی طرف سے آنے والی شپمنٹ مغربی یورپ کا کوئی بھی ملک یوکرین یا کسی اور ملک کو نہیں دے سکتا مگر بھارتی قیادت خود اپنے ہی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں :&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30405542/"&gt;مودی کے دورہ یوکرین سے بھارت کا دوغلا پن ایک بار پھر عیاں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30371977/"&gt;بھارتی باشندے روسی فوج میں شامل ہو کر یوکرائن سے لڑنے لگے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30374529/"&gt;روسی شہریت کا لالچ، ایک اور بھارتی یوکرین جنگ میں مارا گیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس کی ناراضی اور مخالفت کے باوجود بھارت نے یوکرین کی افواج کو، بالواسطہ طور پر، اسلحہ اور گولا بارود فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔</strong></p>
<p>یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھارتی فیکٹریوں میں تیار کردہ گولا بارود کی بڑی کھیپیں یوکرین بھیجی جاتی رہی ہیں۔ روس نے کم از کم دو مواقع پر اس حوالے سے ناراضی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>بھارت براہِ راست گولا بارود بھیجنے کے بجائے یورپی خریداروں کے ذریعے یوکرین کو ڈلیوری دے رہا ہے۔ یورپ کے کئی اداروں نے بھارتی اسلحہ ساز اداروں سے گولا بارود کی بڑی کھیپیں تیار کی ہیں جو مغربی یورپ کے ممالک سے یوکرین روانہ کردی جاتی ہیں۔</p>
<p>روس نے بھارتی اسلحہ اور گولا بارود یوکرین پہنچنے پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کم و بیش گیارہ سرکاری اور دفاعی صنعتوں کے حکام کے بقول کریملن چاہتا ہے کہ بھارت یورپی ملکوں کے لیے گولا بارود کی شپمنٹ روکے مگر بھارتی قیادت ایسا کرنے سے انکار کر رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سال سے بھی زائد مدت سے بھارت یورپی ملکوں کو توپ کے گولے، دستی بم، گولیاں اور دیگر اشیا فراہم کر رہا ہے۔ بھارت کے اپنے قوانین کے تحت اسلحہ اور گولا بارود صرف خریدار ہی استعمال کرسکتا ہے۔</p>
<p>بھارت کی طرف سے آنے والی شپمنٹ مغربی یورپ کا کوئی بھی ملک یوکرین یا کسی اور ملک کو نہیں دے سکتا مگر بھارتی قیادت خود اپنے ہی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیں :</strong></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30405542/">مودی کے دورہ یوکرین سے بھارت کا دوغلا پن ایک بار پھر عیاں</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30371977/">بھارتی باشندے روسی فوج میں شامل ہو کر یوکرائن سے لڑنے لگے</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30374529/">روسی شہریت کا لالچ، ایک اور بھارتی یوکرین جنگ میں مارا گیا</a></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30411744</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Sep 2024 17:54:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/19175201ac22336.webp?r=175403" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/19175201ac22336.webp?r=175403"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
