<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 21:27:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 21:27:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کے چڑیا گھر میں پانڈا، کتے نکلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30411931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے شہر شانوئی میں واقع چڑیا گھر کے وزٹرز اس وقت حیران رہ گئے جب ان پر انکشاف ہوا کہ جس پانڈا کو دیکھنے کے لیے طویل سفر کرکے پہنچے ہیں وہ دراصل پینٹ شدہ کتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک پوسٹ میں مقامی میڈیا کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ چڑیا گھر کے وزٹرز نے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے ہانپنا اور بھونکنا شروع کردیا۔ تب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پینٹ شدہ کتوں‘ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ان میں سے ایک کو باڑ والے علاقے کے اندر ایک چٹان پر تھکے ہارے ہانپتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ گھوبگھرالی دم والا ایک اور ’پانڈا‘ اس کے فوراً بعد نمودار ہوا جب اسے دیوار میں ٹہلتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/syncronus/status/1836886099404411227"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شانوی چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ یہ پانڈا کتوں کی نسل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس نے بعد انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ اس نے شمالی چین کی نسل والے دو سپٹز کتوں کو پانڈا کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ مشتعل زائرین نے سچائی سامنے آنے کے بعد شانوے چڑیا گھر کے حکام سے ان کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے شہر شانوئی میں واقع چڑیا گھر کے وزٹرز اس وقت حیران رہ گئے جب ان پر انکشاف ہوا کہ جس پانڈا کو دیکھنے کے لیے طویل سفر کرکے پہنچے ہیں وہ دراصل پینٹ شدہ کتا ہے۔</strong></p>
<p>نیویارک پوسٹ میں مقامی میڈیا کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ چڑیا گھر کے وزٹرز نے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے ہانپنا اور بھونکنا شروع کردیا۔ تب انتظامیہ کو احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔</p>
<p>’پینٹ شدہ کتوں‘ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ان میں سے ایک کو باڑ والے علاقے کے اندر ایک چٹان پر تھکے ہارے ہانپتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ گھوبگھرالی دم والا ایک اور ’پانڈا‘ اس کے فوراً بعد نمودار ہوا جب اسے دیوار میں ٹہلتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/syncronus/status/1836886099404411227"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شانوی چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ یہ پانڈا کتوں کی نسل ہے۔</p>
<p>تاہم، اس نے بعد انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ اس نے شمالی چین کی نسل والے دو سپٹز کتوں کو پانڈا کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ مشتعل زائرین نے سچائی سامنے آنے کے بعد شانوے چڑیا گھر کے حکام سے ان کی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30411931</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Sep 2024 16:05:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/20155014db46930.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/20155014db46930.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
