<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Quirky</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 00:12:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 00:12:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسافر طیارے کتنے ہزار فٹ کی اونچائی تک پرواز کرسکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30412129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسافر طیارہ جب آسمان کی بلندی پر پہنچتا ہے تو فضائی منظر انتہائی دلفریب نظر آتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا علم مسافروں کو شاید ہی ہوتا ہو کہ جس طیارے میں وہ سوار ہیں وہ کتنی بلندی پر پرواز رہا ہے، کیونکہ اس دوران وہ فضائی سفر سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا آپ نے جہاز میں سفر کے دوران کبھی سوچا ہے کہ جہاز کتنی بلندی تک اڑ سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بوئنگ سے لے کر ائیربس تک کے مختلف ماڈلز 41 ہزار سے 43 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑان بھر سکتے ہیں لیکن عام طور پر وہ ہوا میں 30 ہزار سے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ہی پرواز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30412076"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیٹ طیاروں کا ذکر کریں تو اکثر طیاروں کی اڑان کی حد 51 ہزار فٹ تک ہوتی ہے لیکن وہ 45 ہزار فٹ کی بلندی تک جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز کی بلندی اس کے ہوائی راستے پر بھی منحصر کرتی ہے، جیسا کہ مختصر فاصلے کی پروازیں 25 سے 35 ہزار فٹ کی بلندی تک ہوتی ہیں جب کہ طویل فاصلے کی پروازیں 35 سے 40 ہزار فٹ کا سفر طے کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز جتنی بلندی پر جاتا ہے ہوا کا دباؤ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے جس کی وجہ سے سفر جلدی طے ہوتا ہے اور ایندھن کا استعمال بھی کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسافر طیارہ جب آسمان کی بلندی پر پہنچتا ہے تو فضائی منظر انتہائی دلفریب نظر آتا ہے۔</strong></p>
<p>اس بات کا علم مسافروں کو شاید ہی ہوتا ہو کہ جس طیارے میں وہ سوار ہیں وہ کتنی بلندی پر پرواز رہا ہے، کیونکہ اس دوران وہ فضائی سفر سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن کیا آپ نے جہاز میں سفر کے دوران کبھی سوچا ہے کہ جہاز کتنی بلندی تک اڑ سکتا ہے؟</p>
<p>رپورٹس کے مطابق بوئنگ سے لے کر ائیربس تک کے مختلف ماڈلز 41 ہزار سے 43 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑان بھر سکتے ہیں لیکن عام طور پر وہ ہوا میں 30 ہزار سے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ہی پرواز کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30412076"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جیٹ طیاروں کا ذکر کریں تو اکثر طیاروں کی اڑان کی حد 51 ہزار فٹ تک ہوتی ہے لیکن وہ 45 ہزار فٹ کی بلندی تک جاسکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز کی بلندی اس کے ہوائی راستے پر بھی منحصر کرتی ہے، جیسا کہ مختصر فاصلے کی پروازیں 25 سے 35 ہزار فٹ کی بلندی تک ہوتی ہیں جب کہ طویل فاصلے کی پروازیں 35 سے 40 ہزار فٹ کا سفر طے کرتی ہیں۔</p>
<p>جہاز جتنی بلندی پر جاتا ہے ہوا کا دباؤ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے جس کی وجہ سے سفر جلدی طے ہوتا ہے اور ایندھن کا استعمال بھی کم ہوجاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30412129</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Sep 2024 15:59:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/2115183496df898.png?r=155934" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/2115183496df898.png?r=155934"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
