<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:55:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:55:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہلی شاہی عیدگاہ میں مجسمہ، انصاف مانگنے پر عدالت کی مسلمانوں کو جھڑکیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دہلی ہائی کورٹ نے متھرا میں تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد میں رانی لکشمی بائی کے مجسمے کی تنصیب کو روکنے کی انتظامی کمیٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ بنیادی طور پر عدالت نے کمیٹی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مجسمے کی تنصیب کی راہ ہموار کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی عیدگاہ کے قریب زمین سے متعلق فیصلہ آنے کے بعد  دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) اور ایم سی ڈی کے افسران نے موقع پر پہنچ کر رانی لکشمی بائی مجسمہ کی تنصیب کا کام شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حفاظتی نقطہ نظر سے عیدگاہ احاطے کے اطراف رکاوٹیں لگا دئی گئیں اور سڑک کو آنے جانے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ’جھانسی کی مہارانی‘ رانی لکشمی بائی کو بھی ایک قومی ہیرو کے طور پر تسلیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ عیدگاہ کمیٹی کی درخواست تفرقہ انگیز ہے اور وہ فرقہ وارانہ سیاست کر رہی ہے جس کے لیے عدالت کا استعمال کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30368399"&gt;دہلی میں 700 برس پرانی مسجد شہید&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی شاہی عیدگاہ کی انتظامی کمیٹی کی درخواست کو ابتدا میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج نے مسترد کر دیا تھا۔ ہمت نہ ہارتے ہوئے وہ اپنا مقدمہ اچھے نتیجے کی امید سے اسی عدالت کے  ایک اور جج کے پاس لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30369574"&gt;متھرا کی عیدگاہ مندر توڑ کر بنائی گئی، بھارتی ادارے کا دعویٰ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سنگل جج کے فیصلے کے خلاف اپیل میں عیدگاہ کمیٹی کی طرف سے استعمال کی گئی سخت زبان پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے اس لفظ کو ”بدتمیزی“ اور جج کے ساتھ غیر منصفانہ سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت کیس کا دوبارہ جائزہ لے گی اور 27 ستمبر کو اس کا فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دہلی ہائی کورٹ نے متھرا میں تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد میں رانی لکشمی بائی کے مجسمے کی تنصیب کو روکنے کی انتظامی کمیٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ بنیادی طور پر عدالت نے کمیٹی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مجسمے کی تنصیب کی راہ ہموار کر دی۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی عیدگاہ کے قریب زمین سے متعلق فیصلہ آنے کے بعد  دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) اور ایم سی ڈی کے افسران نے موقع پر پہنچ کر رانی لکشمی بائی مجسمہ کی تنصیب کا کام شروع کردیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حفاظتی نقطہ نظر سے عیدگاہ احاطے کے اطراف رکاوٹیں لگا دئی گئیں اور سڑک کو آنے جانے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30401785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عدالت نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ’جھانسی کی مہارانی‘ رانی لکشمی بائی کو بھی ایک قومی ہیرو کے طور پر تسلیم کیا۔</p>
<p>دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ عیدگاہ کمیٹی کی درخواست تفرقہ انگیز ہے اور وہ فرقہ وارانہ سیاست کر رہی ہے جس کے لیے عدالت کا استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30368399">دہلی میں 700 برس پرانی مسجد شہید</a></p>
<p>دہلی شاہی عیدگاہ کی انتظامی کمیٹی کی درخواست کو ابتدا میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج نے مسترد کر دیا تھا۔ ہمت نہ ہارتے ہوئے وہ اپنا مقدمہ اچھے نتیجے کی امید سے اسی عدالت کے  ایک اور جج کے پاس لے گئے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30369574">متھرا کی عیدگاہ مندر توڑ کر بنائی گئی، بھارتی ادارے کا دعویٰ</a></p>
<p>عدالت نے سنگل جج کے فیصلے کے خلاف اپیل میں عیدگاہ کمیٹی کی طرف سے استعمال کی گئی سخت زبان پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے اس لفظ کو ”بدتمیزی“ اور جج کے ساتھ غیر منصفانہ سمجھا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت کیس کا دوبارہ جائزہ لے گی اور 27 ستمبر کو اس کا فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413021</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Sep 2024 10:23:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/26102030caea501.png?r=102212" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/26102030caea501.png?r=102212"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
