<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 02:04:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 02:04:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ برس بچوں اور خواتین پر حج پابندی کی خبریں زیر گردش، حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب میں آئندہ برس حج ادائیگی کیلئے خواتین اور بچوں پر حج پابندی کی خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں پاکستانی خواتین اور بچوں کے حج کرنے پر پابندی کا دعویٰ ایک نیوز چینل کے یوٹیوب چینل پر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 اگست 2024 کو فیصل آباد کے ایک نیوز چینل سٹی 41 نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ghostarchive.org/varchive/Alz-PEo7QBE"&gt;ویڈیو&lt;/a&gt; پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے خواتین اور بچوں کے حج کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ ویڈیو کے تھمب نیل کے ٹیکسٹ میں یہ الفاظ لکھے گئے تھے، ’بچے اور عورتیں حج نہیں کریں گے‘۔ سعودی حکومت نے بڑی پابندی لگادی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی 41 کی جانب سے پوسٹ کی گئی یوٹیوب ویڈیو کو 82 ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ ویڈیو کو فیسبک اور ایکس پر بھی شئیر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جب اس خبر کی تحقیق کی گئی تو اس کی حقیقت سامنے آئی اور دعوے کا پول کھلا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اصل-خبر-کیا-ہے" href="#اصل-خبر-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اصل خبر کیا ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے وزارت مذہبی امور کو حج 2025 سے متعلق ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mora.gov.pk/NewsDetail/MDBjOTYwZDgtZDg3Yy00OTA0LWE4N2MtYzhhZDk3YmM1ODkx"&gt;ہیلتھ ایڈوائزری&lt;/a&gt; جاری کی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ  پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد سفرِ حج پر روانہ نہیں ہو سکیں گے، شدید موسم کے پیش نظر صرف تندرست عازمین کو حج کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30407250"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ گردے، دل، پھیپھڑے، جگر اور کینسر کے پیچیدہ مریضوں کو سفرِ حج کی اجازت نہیں ہو گی، ڈیمنشیا اور متعدی امراض مثلا ٹی بی، تپ دق، کالی کھانسی کے حامل افراد کو سفرِ حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ 12 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کو سفرِ حج کی اجازت نہیں ہو گی، عازمینِ حج کو گردن توڑ بخار، کورونا، موسمی انفلوئنزا اور پولیو ویکسین لگوانا لازم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے 2025 میں تمام پاکستانی خواتین اور بچوں پر حج کرنے پر پابندی عائد نہیں کی ہے بلکہ اس حوالے سے جھوٹا دعویٰ سوشل میڈیا پر زیر گردش تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب میں آئندہ برس حج ادائیگی کیلئے خواتین اور بچوں پر حج پابندی کی خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔</strong></p>
<p>2025 میں پاکستانی خواتین اور بچوں کے حج کرنے پر پابندی کا دعویٰ ایک نیوز چینل کے یوٹیوب چینل پر کیا گیا۔</p>
<p>30 اگست 2024 کو فیصل آباد کے ایک نیوز چینل سٹی 41 نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ghostarchive.org/varchive/Alz-PEo7QBE">ویڈیو</a> پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے خواتین اور بچوں کے حج کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ ویڈیو کے تھمب نیل کے ٹیکسٹ میں یہ الفاظ لکھے گئے تھے، ’بچے اور عورتیں حج نہیں کریں گے‘۔ سعودی حکومت نے بڑی پابندی لگادی۔</p>
<p>سٹی 41 کی جانب سے پوسٹ کی گئی یوٹیوب ویڈیو کو 82 ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ ویڈیو کو فیسبک اور ایکس پر بھی شئیر کیا گیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں جب اس خبر کی تحقیق کی گئی تو اس کی حقیقت سامنے آئی اور دعوے کا پول کھلا۔</p>
<h1><a id="اصل-خبر-کیا-ہے" href="#اصل-خبر-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اصل خبر کیا ہے؟</h1>
<p>سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے وزارت مذہبی امور کو حج 2025 سے متعلق ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.mora.gov.pk/NewsDetail/MDBjOTYwZDgtZDg3Yy00OTA0LWE4N2MtYzhhZDk3YmM1ODkx">ہیلتھ ایڈوائزری</a> جاری کی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ  پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد سفرِ حج پر روانہ نہیں ہو سکیں گے، شدید موسم کے پیش نظر صرف تندرست عازمین کو حج کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30407250"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ گردے، دل، پھیپھڑے، جگر اور کینسر کے پیچیدہ مریضوں کو سفرِ حج کی اجازت نہیں ہو گی، ڈیمنشیا اور متعدی امراض مثلا ٹی بی، تپ دق، کالی کھانسی کے حامل افراد کو سفرِ حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>ترجمان مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ 12 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کو سفرِ حج کی اجازت نہیں ہو گی، عازمینِ حج کو گردن توڑ بخار، کورونا، موسمی انفلوئنزا اور پولیو ویکسین لگوانا لازم ہوگا۔</p>
<p>سعودی عرب نے 2025 میں تمام پاکستانی خواتین اور بچوں پر حج کرنے پر پابندی عائد نہیں کی ہے بلکہ اس حوالے سے جھوٹا دعویٰ سوشل میڈیا پر زیر گردش تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413063</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Sep 2024 12:37:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/2612315328203ef.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/2612315328203ef.png"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
