<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 11:15:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 11:15:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یونانی پولیس کی تحویل میں پاکستانی کی ہلاکت کا معاملہ، بھرپور احتجاجی مظاہرہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413329/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایتھنز میں یونانی پولیس کی تحویل میں پاکستانی نوجوان کی ہلاکت پر بھرپور احتجاج کیا گیا جس میں انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔ جاں بحق پاکستانی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونان میں آزاد کشمیر کلیاں برنالہ سے تعلق رکھنے والا 38 سالہ محمد کامران عاشق پولیس تحویل میں جاں بحق ہوا۔ محمد کامران کو کو پولیس نے شکایت پر گرفتار کیا مگر عدالت نے اسے بری کر دیا تھا۔ جس کے بعد دیگر تین علاقوں کی پولیس نے بھی اسے گرفتار کیا مگر بدنامِ زمانہ پولیس اسٹیشن آئی پدلیموناس تھانے میں محمد کامران عاشق جان مردہ پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد کامران یونان میں گزشتہ کئی برس سے قانونی طور پر رہائش پذیر تھا اور اسے دوران حراست اپنے وکیل اور رشتہ داروں سے بھی ملنے نہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی پولیس نے ابھی تک ہلاکت کی وجہ ظاہر نہیں کی جبکہ لاش پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں اور ورثا کا کہنا کہ محمد کامران کو پولیس نے حراست کے دوران تشدد سے دم توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایتھنز میں انسانی حقوق اور نسلی امتیاز کیخلاف تنظیموں نے محمد کامران کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور احتجاجی عمل کا حصہ بن گئیں۔ تنظیم کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ نسل پرست ریاست ایک مرتبہ پھر قتل میں ملوث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے یونانی محتسب سے محمد کامران عاشق کی ہلاکت کیلئے تفتیش کی درخواست کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ تھانہ انچارج کو فوری معطل کیا جائے اور اس واقعہ کے ذمہ داران کو قرار واقع سزا دی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایتھنز میں یونانی پولیس کی تحویل میں پاکستانی نوجوان کی ہلاکت پر بھرپور احتجاج کیا گیا جس میں انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں نے بھی حصہ لیا۔ جاں بحق پاکستانی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>یونان میں آزاد کشمیر کلیاں برنالہ سے تعلق رکھنے والا 38 سالہ محمد کامران عاشق پولیس تحویل میں جاں بحق ہوا۔ محمد کامران کو کو پولیس نے شکایت پر گرفتار کیا مگر عدالت نے اسے بری کر دیا تھا۔ جس کے بعد دیگر تین علاقوں کی پولیس نے بھی اسے گرفتار کیا مگر بدنامِ زمانہ پولیس اسٹیشن آئی پدلیموناس تھانے میں محمد کامران عاشق جان مردہ پایا گیا۔</p>
<p>محمد کامران یونان میں گزشتہ کئی برس سے قانونی طور پر رہائش پذیر تھا اور اسے دوران حراست اپنے وکیل اور رشتہ داروں سے بھی ملنے نہ دیا گیا۔</p>
<p>یونانی پولیس نے ابھی تک ہلاکت کی وجہ ظاہر نہیں کی جبکہ لاش پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں اور ورثا کا کہنا کہ محمد کامران کو پولیس نے حراست کے دوران تشدد سے دم توڑ گیا۔</p>
<p>ایتھنز میں انسانی حقوق اور نسلی امتیاز کیخلاف تنظیموں نے محمد کامران کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور احتجاجی عمل کا حصہ بن گئیں۔ تنظیم کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ نسل پرست ریاست ایک مرتبہ پھر قتل میں ملوث ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے یونانی محتسب سے محمد کامران عاشق کی ہلاکت کیلئے تفتیش کی درخواست کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ تھانہ انچارج کو فوری معطل کیا جائے اور اس واقعہ کے ذمہ داران کو قرار واقع سزا دی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413329</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Sep 2024 14:00:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/27140036f788038.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="167" width="301">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/27140036f788038.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
