<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:29:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:29:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ 30 ستمبر کو سماعت کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں آئین کے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30412505/"&gt;آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں&lt;/a&gt; پر سماعت 30 ستمبر بروز پیر کو ہوگی، اس حوالے سے عدالت عظمیٰ نے کاز لسٹ جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نظرثانی اپیل پر سماعت پیر کو ساڑھے 11 بجے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل 5 رکنی بینچ میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30302005/"&gt;پارلیمانی پارٹی کی اکثریت سربراہ کیخلاف ووٹ دے سکتی ہے- سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں کو 23 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30286348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے  سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر  نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="آرٹیکل-63-کیا-ہے" href="#آرٹیکل-63-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آرٹیکل 63 کیا ہے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30286445/"&gt;منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے ریفرنس پر فیصلہ سنادیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ 30 ستمبر کو سماعت کرے گا۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ میں آئین کے <a href="https://www.aaj.tv/news/30412505/">آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں</a> پر سماعت 30 ستمبر بروز پیر کو ہوگی، اس حوالے سے عدالت عظمیٰ نے کاز لسٹ جاری کردی۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نظرثانی اپیل پر سماعت پیر کو ساڑھے 11 بجے کرے گا۔</p>
<p>جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل 5 رکنی بینچ میں شامل ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30302005/">پارلیمانی پارٹی کی اکثریت سربراہ کیخلاف ووٹ دے سکتی ہے- سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ</a></p>
<p>سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں کو 23 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30286348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔</p>
<p>بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے  سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر  نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔</p>
<p>اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔</p>
<h2><a id="آرٹیکل-63-کیا-ہے" href="#آرٹیکل-63-کیا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آرٹیکل 63 کیا ہے؟</h2>
<p>آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30286445/">منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے ریفرنس پر فیصلہ سنادیا</a></p>
<p>فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413350</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Sep 2024 15:33:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/271527349bcb480.jpg?r=152937" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/271527349bcb480.jpg?r=152937"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
