<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 06:59:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 06:59:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بوجھو تو جانیں! 100 ارب ڈالر سے تیار ایسی چیز جو دنیا میں موجود نہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413532/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسانوں کے ہاتھ سے بنائی گئیں ایسی متعدد چیزیں ہیں جن پر کروڑوں ڈالرز کا خرچہ کیا گیا اور وہ دنیا میں موجود ہیں جنہیں سامنے بھی دیکھا جاتا رہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن وہیں ایک ایسی چیز بھی ہے جس پر اب تک سب سے زیادہ خرچہ کیا جا چکا ہے اور وہ اب تک کا سب سے مہنگا ترین منصوبہ ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید وہ کوئی عمارت ہوگی جیسا کہ برج خلفیہ، یا پھر کوئی بڑا طیارہ ہوگا یا تاج محل بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انسانوں کی بنائی گئی وہ مہنگی ترین چیز دنیا میں موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ مہنگی چیز کا نام گنیز بک آف ورلڈ کی کتاب میں بھی درج ہے جس کی تعمیر کے لیے 100 بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آئی، جو اسے اب تک کا سب سے قیمتی منصوبہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مہنگی ترین چیز دنیا میں نہیں بلکہ خلا میں موجود ہے جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بین-الاقوامی-خلائی-اسٹیشن-اتنا-مہنگا-کیوں-ہے" href="#بین-الاقوامی-خلائی-اسٹیشن-اتنا-مہنگا-کیوں-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اتنا مہنگا کیوں ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) اپنے ماڈیولر ڈیزائن کی وجہ سے ناقابل یقین حد تک لچکدار ہے۔ یہ متعدد پارٹس پر مشتمل ہے جنہیں ضرورت کے مطابق آسانی سے لگایا اور ہٹایا جا سکتا ہے۔ آئی ایس ایس کے پاس خلابازوں کو محفوظ اور تندرست رکھنے کا خاص نظام بھی موجود ہے۔ یہ اہم نظام ہوا، پانی اور خوراک مہیا کرتے ہیں، فضلہ اور صفائی کا انتظام کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ آگ کا پتہ لگانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30334506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کئی اہم کلیدی حصے ہیں جن میں سائنسی تجربات کے لیے ایک تحقیقی مرکز، اسے چلانے کے لیے پاور کنٹرول ماڈیولز، اور زمین سے جڑے رہنے کے لیے جدید مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ تاہم، اس تکنیکی کمال کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری قیمت لگائی جاتی ہے، جس کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے سالانہ لاکھوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسانوں کے ہاتھ سے بنائی گئیں ایسی متعدد چیزیں ہیں جن پر کروڑوں ڈالرز کا خرچہ کیا گیا اور وہ دنیا میں موجود ہیں جنہیں سامنے بھی دیکھا جاتا رہتا ہے۔</strong></p>
<p>لیکن وہیں ایک ایسی چیز بھی ہے جس پر اب تک سب سے زیادہ خرچہ کیا جا چکا ہے اور وہ اب تک کا سب سے مہنگا ترین منصوبہ ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید وہ کوئی عمارت ہوگی جیسا کہ برج خلفیہ، یا پھر کوئی بڑا طیارہ ہوگا یا تاج محل بھی ہوسکتا ہے۔</p>
<p>لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انسانوں کی بنائی گئی وہ مہنگی ترین چیز دنیا میں موجود ہی نہیں۔</p>
<p>مذکورہ مہنگی چیز کا نام گنیز بک آف ورلڈ کی کتاب میں بھی درج ہے جس کی تعمیر کے لیے 100 بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آئی، جو اسے اب تک کا سب سے قیمتی منصوبہ بناتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30342495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وہ مہنگی ترین چیز دنیا میں نہیں بلکہ خلا میں موجود ہے جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کہا جاتا ہے۔</p>
<h1><a id="بین-الاقوامی-خلائی-اسٹیشن-اتنا-مہنگا-کیوں-ہے" href="#بین-الاقوامی-خلائی-اسٹیشن-اتنا-مہنگا-کیوں-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اتنا مہنگا کیوں ہے؟</h1>
<p>بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) اپنے ماڈیولر ڈیزائن کی وجہ سے ناقابل یقین حد تک لچکدار ہے۔ یہ متعدد پارٹس پر مشتمل ہے جنہیں ضرورت کے مطابق آسانی سے لگایا اور ہٹایا جا سکتا ہے۔ آئی ایس ایس کے پاس خلابازوں کو محفوظ اور تندرست رکھنے کا خاص نظام بھی موجود ہے۔ یہ اہم نظام ہوا، پانی اور خوراک مہیا کرتے ہیں، فضلہ اور صفائی کا انتظام کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ آگ کا پتہ لگانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30334506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے کئی اہم کلیدی حصے ہیں جن میں سائنسی تجربات کے لیے ایک تحقیقی مرکز، اسے چلانے کے لیے پاور کنٹرول ماڈیولز، اور زمین سے جڑے رہنے کے لیے جدید مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ تاہم، اس تکنیکی کمال کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری قیمت لگائی جاتی ہے، جس کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے سالانہ لاکھوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413532</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Sep 2024 14:59:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/28145545e1cadeb.png?r=145654" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/28145545e1cadeb.png?r=145654"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوکل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
