<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:58:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:58:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>باس کا فرمائشی پروگرام، انڈے اور کافی نہ لانے پر خاتون ملازمت سے فارغ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی ملازمت شروع کرنے والی خاتون ملازمہ کو باس کی فرمائش پوری نہ کرنے پر نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق لو نامی خاتون نے چینی تعلیمی فرم میں ملازمت شروع کی تھی جس نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو چینی سوشل ایپ پر شیئر کیا اور بتایا کہ کیسے اسے باس کی ناشتے کا مطابلہ پورا نہ کرنے پر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے باس کی ڈیمانڈ سے متعلق بتایا کہ ان کی جانب سے روزانہ ایک کافی، انڈا اور پانی کی بوتل کے انتظام کرنے کی ڈیمانڈ کی جاتی تھی، مجھے ان کی ذاتی اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت نہیں دی گئی، چینی خاتون نے کہا کہ باس کا میرے ساتھ یہ رویہ درست نہیں ، ان کے ذاتی کام کرنا میری ملازمت میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30411674"&gt;کام کے دباؤ سے نوجوان خاتون کی ہلاکت پر بھارت میں تحقیقات شروع &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے سوشل میڈیا پر مزید بتایا کہ آفس کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسے بغیر معاوضے کے نوکری سے فارغ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو کمپنی میدان میں آئی اور وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے ملازمہ کو بحال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ لو کا رویہ نامناسب تھا جس کے سبب انہیں ملازمت سے نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ایچ آر ہیڈ نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ خاتون  لو کی برطرفی باس لیو کا فیصلہ تھا نہ کہ کمپنی کی پالیسیوں پر برطرف کیا گیا، تاہم خاتون نے دوبارہ ملازمت شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی ملازمت شروع کرنے والی خاتون ملازمہ کو باس کی فرمائش پوری نہ کرنے پر نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق لو نامی خاتون نے چینی تعلیمی فرم میں ملازمت شروع کی تھی جس نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو چینی سوشل ایپ پر شیئر کیا اور بتایا کہ کیسے اسے باس کی ناشتے کا مطابلہ پورا نہ کرنے پر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔</p>
<p>خاتون نے باس کی ڈیمانڈ سے متعلق بتایا کہ ان کی جانب سے روزانہ ایک کافی، انڈا اور پانی کی بوتل کے انتظام کرنے کی ڈیمانڈ کی جاتی تھی، مجھے ان کی ذاتی اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت نہیں دی گئی، چینی خاتون نے کہا کہ باس کا میرے ساتھ یہ رویہ درست نہیں ، ان کے ذاتی کام کرنا میری ملازمت میں شامل نہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30411674">کام کے دباؤ سے نوجوان خاتون کی ہلاکت پر بھارت میں تحقیقات شروع </a></p>
<p>خاتون نے سوشل میڈیا پر مزید بتایا کہ آفس کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسے بغیر معاوضے کے نوکری سے فارغ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو کمپنی میدان میں آئی اور وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے ملازمہ کو بحال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ لو کا رویہ نامناسب تھا جس کے سبب انہیں ملازمت سے نکالا گیا۔</p>
<p>کمپنی کے ایچ آر ہیڈ نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ خاتون  لو کی برطرفی باس لیو کا فیصلہ تھا نہ کہ کمپنی کی پالیسیوں پر برطرف کیا گیا، تاہم خاتون نے دوبارہ ملازمت شروع کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413706</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Sep 2024 14:41:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/29143245ad2ca54.png?r=144128" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/29143245ad2ca54.png?r=144128"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ گوگل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
