<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:11:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:11:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیسز: آئی جی اسلام آباد کو معاملات حل کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30413865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کو ہراساں کرنے کے خلاف کیسز میں آئی جی اسلام آباد کو معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین ، علی بخاری اور عامر مغل کو ہراساں کرنے کے خلاف کیسز کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل عمیر بلوچ جبکہ عدالتی حکم پر آئی جی اسلام آباد عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ میں نے پہلے بھی آرڈر کیا تھا کہ ان معاملات کو ذرا اچھے طریقے سے دیکھ لیں، یہ درخواست پولیس کے کنڈکٹ سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسارکیا کہ درخواست ہے کہ پولیس ہراساں کرتی ہے ،جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ 24 کو آرڈر پاس ہوا اسکے بعد ایک دن ملا تمام فائلز منگوائی ہیں، کیسز دیکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزار عمیر بلوچ نے کہاکہ جعلی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی صاحب اس کو دیکھ لیں اچھا نہیں لگتا جو جعلی مقدمات ہیں انکو ختم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ میں درخواست گزاروں کو بلاؤں گا ان سے میٹنگ کروں گا،جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کو بلا کر بیٹھا نہ لیجئے گا، عمیر بلوچ کی موجودگی میں میٹنگ کیجیے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں چیف جسٹس عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کو ہراساں کرنے کے خلاف کیسز میں آئی جی اسلام آباد کو معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین ، علی بخاری اور عامر مغل کو ہراساں کرنے کے خلاف کیسز کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل عمیر بلوچ جبکہ عدالتی حکم پر آئی جی اسلام آباد عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔</p>
<p>چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ میں نے پہلے بھی آرڈر کیا تھا کہ ان معاملات کو ذرا اچھے طریقے سے دیکھ لیں، یہ درخواست پولیس کے کنڈکٹ سے متعلق ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسارکیا کہ درخواست ہے کہ پولیس ہراساں کرتی ہے ،جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ 24 کو آرڈر پاس ہوا اسکے بعد ایک دن ملا تمام فائلز منگوائی ہیں، کیسز دیکھے ہیں۔</p>
<p>وکیل درخواست گزار عمیر بلوچ نے کہاکہ جعلی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی صاحب اس کو دیکھ لیں اچھا نہیں لگتا جو جعلی مقدمات ہیں انکو ختم کریں۔</p>
<p>آئی جی اسلام آباد نے کہاکہ میں درخواست گزاروں کو بلاؤں گا ان سے میٹنگ کروں گا،جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کو بلا کر بیٹھا نہ لیجئے گا، عمیر بلوچ کی موجودگی میں میٹنگ کیجیے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو معاملات حل کرنے کی ہدایت کردی ۔</p>
<p>بعدازاں چیف جسٹس عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30413865</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Sep 2024 13:08:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/09/3013065673b4f76.jpg?r=130842" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/09/3013065673b4f76.jpg?r=130842"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
