<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:24:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:24:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے چین، شمالی کوریا اور ایران میں مخبروں کی بھرتی شروع کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30414581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کو مخبروں کی تلاش ہے جو چین، ایران اور شمالی کوریا سے انہیں خفیہ معلومات پہنچا سکیں، اس کیلئے سی آئی اے کی جانب سے بھرتی کا عمل ایک مہم کے زریعے شروع کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ”بی بی سی“ کے مطابق سی آئی اے نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مینڈارن، فارسی اور کورین زبانوں شائع پیغامات میں بتایا کہ خواہش مند افراد کس طرح محفوظ طریقے سے سی آئی اے سے رابطہ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30414564/"&gt;اسرائیل کا ’سیمسن آپشن‘ کیا ہے اور کتنی تباہی ہوگی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھرتی کے یہ پیغامات فیس بُک، یوٹیوب، ایکس، ٹیلی گرام، انسٹاگرام اور لنکڈان جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ڈارک ویب پر بھی جاری کیے گئے ہیں، ان پیغامات میں مخبری میں دلچسپی رکھنے والے افراد سے ان کا نام، پتا اور رابطہ کرنے کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414572"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے جاری تفصیلی ہدایات میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سی آئی اے سے اس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے قابل اعتماد انکرپٹڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (ای پی اینز) یا کسی بھی ایسے گمنام ویب براؤزر کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں جو ڈارک ویب تک رسائی کے لیے استعمال ہوتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق سی آئی اے اس سے قبل بھی یوکرین جنگ کی ابتدا میں ایسی ہی مہم روسی شہریوں کے لیے بھی شروع کرچکی ہے، ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ مہم انتہائی کامیاب رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہانکوک یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز میں بین الاقوامی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میسن رچی نے سوال اٹھایا کہ ’شمالی کوریا کے زیادہ تر لوگوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی نہیں تو پھر یہ مہم کتنی کارگر ثابت ہوگی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30414463/"&gt;ایرانی میزائل گھروں کے قریب گرنے پر بعض اسرائیلی شہری خوش کیوں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر رچی نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ان تاجروں کو نشانہ بنا سکتا ہے جو غیر رسمی طور پر چین کے ساتھ سرحد عبور کرتے ہیں اور وی پی این نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کو مخبروں کی تلاش ہے جو چین، ایران اور شمالی کوریا سے انہیں خفیہ معلومات پہنچا سکیں، اس کیلئے سی آئی اے کی جانب سے بھرتی کا عمل ایک مہم کے زریعے شروع کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ”بی بی سی“ کے مطابق سی آئی اے نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مینڈارن، فارسی اور کورین زبانوں شائع پیغامات میں بتایا کہ خواہش مند افراد کس طرح محفوظ طریقے سے سی آئی اے سے رابطہ کرسکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30414564/">اسرائیل کا ’سیمسن آپشن‘ کیا ہے اور کتنی تباہی ہوگی</a></strong></p>
<p>بھرتی کے یہ پیغامات فیس بُک، یوٹیوب، ایکس، ٹیلی گرام، انسٹاگرام اور لنکڈان جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ڈارک ویب پر بھی جاری کیے گئے ہیں، ان پیغامات میں مخبری میں دلچسپی رکھنے والے افراد سے ان کا نام، پتا اور رابطہ کرنے کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414572"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے جاری تفصیلی ہدایات میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سی آئی اے سے اس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے قابل اعتماد انکرپٹڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (ای پی اینز) یا کسی بھی ایسے گمنام ویب براؤزر کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں جو ڈارک ویب تک رسائی کے لیے استعمال ہوتا ہو۔</p>
<p>بی بی سی کے مطابق سی آئی اے اس سے قبل بھی یوکرین جنگ کی ابتدا میں ایسی ہی مہم روسی شہریوں کے لیے بھی شروع کرچکی ہے، ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ مہم انتہائی کامیاب رہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہانکوک یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز میں بین الاقوامی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میسن رچی نے سوال اٹھایا کہ ’شمالی کوریا کے زیادہ تر لوگوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی نہیں تو پھر یہ مہم کتنی کارگر ثابت ہوگی۔‘</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30414463/">ایرانی میزائل گھروں کے قریب گرنے پر بعض اسرائیلی شہری خوش کیوں؟</a></strong></p>
<p>پروفیسر رچی نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ان تاجروں کو نشانہ بنا سکتا ہے جو غیر رسمی طور پر چین کے ساتھ سرحد عبور کرتے ہیں اور وی پی این نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30414581</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Oct 2024 19:01:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/03185921d9b9aa1.webp?r=185941" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/03185921d9b9aa1.webp?r=185941"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
