<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:07:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:07:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک کے تحت13 آئی پی پیز کے علاوہ باقی تمام کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی ہوگی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30417319/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے 140  کے قریب آئی پی پیز کو غیراستعمال شدہ بجلی کی مد میں 19 سو ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی ہے۔ رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 28 سو ارب ہوگئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کیپسییٹی پیمنٹ کا بوجھ مزید کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 2  درجن کے قریب آئی پی پیز میں سے بعض کے معاہدے یا تو منسوخ ہوں گے یا پھر ان کی فی یونٹ بجلی کی قیمت پر نظرثانی کر کے انہیں کم کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام تر تنقید کے باجود ریاست پاکستان  انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیسرز سے ماضی میں کیئے گئے نقصان دہ معاہدوں پر نظرثانی یا انہیں منسوخ کرانے کے لیے کوشاں ہے، 1990  کی دہائی میں لگائی گئی 5  آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ ہوچکے جس سے ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں سالانہ 60  ارب روپے کی بچت ہوگی، ان آئی پی پیز میں حب پاور یا حبکو، لال پیر، روچ ، اٹلس اور صبا کے بجلی گھر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر 60  ارب روپوں کی یہ سالانہ بچت اتنی زیادہ نہ لگے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اس بوجھ کو کم کرنے کی ابتدا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپیسیٹی پیمینٹ کے بوجھ کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ مالی سال میں پاکستان نے 140 کے قریب آئی پی پیز کو نا استعمال شدہ بجلی کی مد میں  1900  ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 2800  سو ارب ہو گئی ہیں ، جس کی قیمت عام پاکستانی سے لیکر اس ملک کے صنعتکار، تاجر اور معیشت سے جڑا ہر سیکٹر ادا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30415435"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سی پیک کے تحت لگائی گئی تیرہ آئی پی پیز کو فی الوقت چھوڑ کر باقی تمام کے ساتھ معاہدوں پر کہیں کم اور کہیں زیادہ نظرثانی ہوگی، ذرائع کے بقول جو آئی پی پیز کے ساتھ گفت و شنید میں براہ راست شامل ہے، یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ جن آئی پی پیز کی بجلی کی قیمت فی یونٹ 40  روپے سے زیادہ ہے، انہیں کم کرایا جائے گا، ان میں حسین داؤد گروپ، دانش اقبال کا گل احمد گروپ اور رومان ڈار کا ماسٹر گروپ سرفہرست ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی آئی پی پیز جن کی بجلی کی فی یونٹ قیمت 40  روپے سے کم اور 32 سے 33  روپے سے زیادہ ہے ان سے بھی معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے گفت وشنید کا سلسلہ جاری ہے، لبرٹی پاور از خود فی یونٹ بجلی کی قیمت کم کرنے کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق تیسرے مرحلے میں حکومتی اور فوجی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے بجلی گھروں کے معاہدوں کی بھی باری آئے گی، اور ان کی کیسپسیٹی پیمنٹ کی بلند شرح کو بھی کم کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے ریاست پاکستان بعض معاہدوں پر نظرثانی کرانے میں اس لیے کامیاب رہی کہ بعض بجلی گھر مالکان  ایک  عرصے سے اپنے اخراجات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے، جس میں بجلی گھروں کی دیکھ بھال کے اخراجات سے لیکر فرنس آئل کے استعمال کے اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی اور سیکورٹی اور انتظامی اخراجات سب میں ہیر پھیر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30416104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے ماضی میں کیے گئے معاہدوں میں شفافیت نہیں تھی، دلچسپ بات یہ کہ آئی پی پیز کو تو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن ماضی کی حکومتوں کی طرف سے جن سیاست دانوں اور بیورکریٹس نے یہ معاہدے کیے ان کا کوئی احتساب نہیں ہوا، ان میں سے کئی سیاست دان یا ان کے خاندان کے افراد آج بھی برسراقتدار ہیں، لیکن کم از کم یہ بات مثبت ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی سے حکومت کے مالی بوجھ میں رفتہ رفتہ کمی ہوگی  جس سے اگے چل کر بجلی کی قیمتوں میں بھی کٹوتی کا امکان ہے ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے 140  کے قریب آئی پی پیز کو غیراستعمال شدہ بجلی کی مد میں 19 سو ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی ہے۔ رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 28 سو ارب ہوگئی ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کیپسییٹی پیمنٹ کا بوجھ مزید کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 2  درجن کے قریب آئی پی پیز میں سے بعض کے معاہدے یا تو منسوخ ہوں گے یا پھر ان کی فی یونٹ بجلی کی قیمت پر نظرثانی کر کے انہیں کم کرایا جائے گا۔</p>
<p>تمام تر تنقید کے باجود ریاست پاکستان  انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیسرز سے ماضی میں کیئے گئے نقصان دہ معاہدوں پر نظرثانی یا انہیں منسوخ کرانے کے لیے کوشاں ہے، 1990  کی دہائی میں لگائی گئی 5  آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے منسوخ ہوچکے جس سے ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں سالانہ 60  ارب روپے کی بچت ہوگی، ان آئی پی پیز میں حب پاور یا حبکو، لال پیر، روچ ، اٹلس اور صبا کے بجلی گھر شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30405456"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بظاہر 60  ارب روپوں کی یہ سالانہ بچت اتنی زیادہ نہ لگے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اس بوجھ کو کم کرنے کی ابتدا ہے۔</p>
<p>کیپیسیٹی پیمینٹ کے بوجھ کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ مالی سال میں پاکستان نے 140 کے قریب آئی پی پیز کو نا استعمال شدہ بجلی کی مد میں  1900  ارب کے لگ بھگ رقم ادا کی۔</p>
<p>رواں مالی سال میں کیپیسٹی پیمینٹ بڑھ کر 2800  سو ارب ہو گئی ہیں ، جس کی قیمت عام پاکستانی سے لیکر اس ملک کے صنعتکار، تاجر اور معیشت سے جڑا ہر سیکٹر ادا کررہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30415435"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق سی پیک کے تحت لگائی گئی تیرہ آئی پی پیز کو فی الوقت چھوڑ کر باقی تمام کے ساتھ معاہدوں پر کہیں کم اور کہیں زیادہ نظرثانی ہوگی، ذرائع کے بقول جو آئی پی پیز کے ساتھ گفت و شنید میں براہ راست شامل ہے، یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ جن آئی پی پیز کی بجلی کی قیمت فی یونٹ 40  روپے سے زیادہ ہے، انہیں کم کرایا جائے گا، ان میں حسین داؤد گروپ، دانش اقبال کا گل احمد گروپ اور رومان ڈار کا ماسٹر گروپ سرفہرست ہیں ۔</p>
<p>کئی آئی پی پیز جن کی بجلی کی فی یونٹ قیمت 40  روپے سے کم اور 32 سے 33  روپے سے زیادہ ہے ان سے بھی معاہدوں پر نظر ثانی کے لیے گفت وشنید کا سلسلہ جاری ہے، لبرٹی پاور از خود فی یونٹ بجلی کی قیمت کم کرنے کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق تیسرے مرحلے میں حکومتی اور فوجی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے بجلی گھروں کے معاہدوں کی بھی باری آئے گی، اور ان کی کیسپسیٹی پیمنٹ کی بلند شرح کو بھی کم کرایا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے ریاست پاکستان بعض معاہدوں پر نظرثانی کرانے میں اس لیے کامیاب رہی کہ بعض بجلی گھر مالکان  ایک  عرصے سے اپنے اخراجات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے تھے، جس میں بجلی گھروں کی دیکھ بھال کے اخراجات سے لیکر فرنس آئل کے استعمال کے اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی اور سیکورٹی اور انتظامی اخراجات سب میں ہیر پھیر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30416104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے ماضی میں کیے گئے معاہدوں میں شفافیت نہیں تھی، دلچسپ بات یہ کہ آئی پی پیز کو تو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن ماضی کی حکومتوں کی طرف سے جن سیاست دانوں اور بیورکریٹس نے یہ معاہدے کیے ان کا کوئی احتساب نہیں ہوا، ان میں سے کئی سیاست دان یا ان کے خاندان کے افراد آج بھی برسراقتدار ہیں، لیکن کم از کم یہ بات مثبت ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی سے حکومت کے مالی بوجھ میں رفتہ رفتہ کمی ہوگی  جس سے اگے چل کر بجلی کی قیمتوں میں بھی کٹوتی کا امکان ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30417319</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Oct 2024 18:32:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/1718072663b0ec1.png?r=180735" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/1718072663b0ec1.png?r=180735"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
