<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:14:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 15:14:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک نے شہریوں کو سستی بجلی دینے کیلیے اہم قدم اٹھا لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30417675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کےلیے کے الیکٹرک کی جانب سے اہم اقدام اٹھا لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد کراچی کا پہلا 500 کے وی گرڈ اسٹیشن قائم کرلیا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کو ’کینپ‘ کے ایٹمی پلانٹ سے سستی ترین بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےالیکٹرک نے 500 کے وی کا KKI (کے کے آئئی) گرڈ 22 ماہ کی قلیل ترین مدت میں مکمل کر لیا ہے۔ نجی شعبے میں جانے کے کافی عرصے بعد کے کے آئی گرڈ 500کےوی کا کراچی میں  اپنی نوعیت کا پہلا گرڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414544"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے کے آئی گرڈ کے ذریعے نیشنل گرڈ اور کے-الیکٹرک کے نیٹ ورک میں بجلی کی ترسیل کا کنکشن ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے اس حوالے سے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومت پاکستان، حکومت سندھ، نیپرا اور دیگر کے درمیان تعاون کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونس علوی کا کہنا تھا کہ الحمدللہ، کے الیکٹرک اور کراچی کے لیے ایک اور تاریخی لمحہ ہے، کے-الیکٹرک  کے  500 کلو واٹ گرڈ اسٹیشن نے نیشنل گرڈ سے کراچی کو سستی بجلی کی ترسیل ممکن ہو گئی یہ رابطہ صنعتوں اور ملک کے جنوبی علاقوں کیلئے انرجی سیکیورٹی کو مزید تقویت پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کےلیے کے الیکٹرک کی جانب سے اہم اقدام اٹھا لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد کراچی کا پہلا 500 کے وی گرڈ اسٹیشن قائم کرلیا ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کو ’کینپ‘ کے ایٹمی پلانٹ سے سستی ترین بجلی کی فراہمی ممکن ہوسکے ہو گئی۔</p>
<p>کےالیکٹرک نے 500 کے وی کا KKI (کے کے آئئی) گرڈ 22 ماہ کی قلیل ترین مدت میں مکمل کر لیا ہے۔ نجی شعبے میں جانے کے کافی عرصے بعد کے کے آئی گرڈ 500کےوی کا کراچی میں  اپنی نوعیت کا پہلا گرڈ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414544"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کے کے آئی گرڈ کے ذریعے نیشنل گرڈ اور کے-الیکٹرک کے نیٹ ورک میں بجلی کی ترسیل کا کنکشن ہو گیا ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے اس حوالے سے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومت پاکستان، حکومت سندھ، نیپرا اور دیگر کے درمیان تعاون کو سراہا۔</p>
<p>مونس علوی کا کہنا تھا کہ الحمدللہ، کے الیکٹرک اور کراچی کے لیے ایک اور تاریخی لمحہ ہے، کے-الیکٹرک  کے  500 کلو واٹ گرڈ اسٹیشن نے نیشنل گرڈ سے کراچی کو سستی بجلی کی ترسیل ممکن ہو گئی یہ رابطہ صنعتوں اور ملک کے جنوبی علاقوں کیلئے انرجی سیکیورٹی کو مزید تقویت پہنچائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30417675</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Oct 2024 15:52:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/19143900752333e.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/19143900752333e.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
