<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:23:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:23:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کھانے کی اشیا خراب ہونے سے پہلے بتانے والی ’الیکٹرانک زبان‘ تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30417744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین نے مصنوعی ذہانت بروئے کار لاتے ہوئے ایسی الیکٹرانک زبان تیار کی ہے جو کھانے کی اشاء کے خراب ہونے سے پہلے اس کے بارے میں آگاہ کردیتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الیکٹرانک زبان ذائقوں میں تمیز کا شعور رکھتی ہے اور یہ بھی بتاسکتی ہے کہ کھانے پینے کی کوئی چیز خراب ہو جانے کی منزل سے کتنی دور یا نزدیک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم عام طور پر اس بات کا اندازہ نہیں لگا پاتے کہ کوئی چیز کھانے کے قابل رہی ہے یا نہیں۔ کچھ لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر محض سونگھ کر بتاسکتے ہیں کہ کوئی چیز خراب ہونے والی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف جرنل نیچر میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین کی تیار کردہ الیکٹرانک زبان کے تجزیے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں کہاں تک معاون ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30416455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکٹرانک زبان تیار کرنے کے لیے ماہرین نے آین کے حوالے سے حساس فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹر تیار کیا۔ یہ ڈیوائس کیمیکل ری ایکشن کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں لگا ہوا سینسر کسی بھی مائع چیز میں پائے جانے والے آینز کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے اور معلومات کو الیکٹریکل سگنل میں تبدیل کرکے کمپیوٹر کے ذریعے سمجھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین نے مصنوعی ذہانت بروئے کار لاتے ہوئے ایسی الیکٹرانک زبان تیار کی ہے جو کھانے کی اشاء کے خراب ہونے سے پہلے اس کے بارے میں آگاہ کردیتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ الیکٹرانک زبان ذائقوں میں تمیز کا شعور رکھتی ہے اور یہ بھی بتاسکتی ہے کہ کھانے پینے کی کوئی چیز خراب ہو جانے کی منزل سے کتنی دور یا نزدیک ہے۔</p>
<p>ہم عام طور پر اس بات کا اندازہ نہیں لگا پاتے کہ کوئی چیز کھانے کے قابل رہی ہے یا نہیں۔ کچھ لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر محض سونگھ کر بتاسکتے ہیں کہ کوئی چیز خراب ہونے والی ہے یا نہیں۔</p>
<p>معروف جرنل نیچر میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین کی تیار کردہ الیکٹرانک زبان کے تجزیے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں کہاں تک معاون ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30416455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>الیکٹرانک زبان تیار کرنے کے لیے ماہرین نے آین کے حوالے سے حساس فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹر تیار کیا۔ یہ ڈیوائس کیمیکل ری ایکشن کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں لگا ہوا سینسر کسی بھی مائع چیز میں پائے جانے والے آینز کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے اور معلومات کو الیکٹریکل سگنل میں تبدیل کرکے کمپیوٹر کے ذریعے سمجھاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30417744</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Oct 2024 23:58:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/19225428633e565.webp?r=225603" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/19225428633e565.webp?r=225603"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
