<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 00:29:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 00:29:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدلیہ کے چالیس فیصد مقدمات آئینی بنچز کو منتقل ہوں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30418353/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی عدالتوں نے آئینی درخواستوں کی سماعت معطل کر دی ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد زیرالتوا کیسوں کے سائلین کو جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقدمات کی منتقلی اور آئینی بنچز کی تشکیل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ سے ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت 40 فیصد درخواستیں آئینی بنچوں کو منتقل کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کی آئینی درخواستوں اور رٹ پٹیشنز کے فیصلے آئینی بنچ کریں گے، جس سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عوام کی توقعات اور عدلیہ کی کارکردگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں ضلع، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عوام کو یہ امید ہے کہ یہ آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ آئینی بنچوں میں منتقل ہونے والے تقریباً 40 فیصد مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی، اور دوسری وجہ ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، جو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کو جانچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انصاف کی فراہمی اور عوامی مسائل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں خاندانی وراثت اور زمینوں کے جھگڑوں جیسے معاملات میں کئی عشروں تک فیصلے نہیں ہو سکے۔ آئینی ترمیم کے بعد عوام کو امید ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی اور انصاف کے تقاضے بہتر طور پر پورے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37ڈی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک کی عدالتوں نے آئینی درخواستوں کی سماعت معطل کر دی ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد زیرالتوا کیسوں کے سائلین کو جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔</strong></p>
<p><strong>مقدمات کی منتقلی اور آئینی بنچز کی تشکیل</strong></p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ سے ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت 40 فیصد درخواستیں آئینی بنچوں کو منتقل کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کی آئینی درخواستوں اور رٹ پٹیشنز کے فیصلے آئینی بنچ کریں گے، جس سے مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی۔</p>
<p><strong>عوام کی توقعات اور عدلیہ کی کارکردگی</strong></p>
<p>ملک میں ضلع، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عوام کو یہ امید ہے کہ یہ آئینی ترمیم انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے گی۔</p>
<p>اس کی دو اہم وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ آئینی بنچوں میں منتقل ہونے والے تقریباً 40 فیصد مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی، اور دوسری وجہ ہائی کورٹس کے ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، جو وقتاً فوقتاً ان کی کارکردگی کو جانچے گا۔</p>
<p><strong>انصاف کی فراہمی اور عوامی مسائل</strong></p>
<p>ماضی میں خاندانی وراثت اور زمینوں کے جھگڑوں جیسے معاملات میں کئی عشروں تک فیصلے نہیں ہو سکے۔ آئینی ترمیم کے بعد عوام کو امید ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت میں تیزی آئے گی اور انصاف کے تقاضے بہتر طور پر پورے ہوں گے۔</p>
<p>یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37ڈی میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست سستے اور آسان انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30418353</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Oct 2024 09:50:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/2309373209d3d9c.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/2309373209d3d9c.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
