<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:37:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:37:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کے میگا پراجیکٹ نیوم کے پہلے مرحلے کا افتتاح</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30419270/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ شہر نیوم کے پہلے حصے کا افتتاح کردیا۔ بحیرہ احمر میں اس جزیرے پر ریستوراں، ہوٹل اور بڑی، تفریحی کشتیوں کے لیے برتھ کی سہولت بھی موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس جزیرے کا افتتاح کیا گیا ہے اُسے سندالہ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب نیوم کو عملی شکل دینے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اور سعودی حکومت ڈیووس اِن دی ڈیزرٹ کی عرفیت پانے والے انویسٹرز فورم کا ریاض میں منگل کو افتتاح ہونے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف ایگزیکٹیو نضمی الناصر کا کہنا ہے کہ نیوم وہ منصوبہ ہے جو سعودی عرب میں لگژری ٹورازم کے نئے دور کی معاونت کرے گا۔ سندلہ کا افتتاح ایک بڑی کامیابی ہے۔ نیوم کی افتتاحی منزل لوگوں کو بتائے گی کہ نیوز میں کیا کیا ہوسکتا ہے۔ سندلہ کا رقبہ 8 لاکھ 40 ہزار مربع میٹرز ہے۔ یہ یومیہ ڈھائی ہزار تک افراد کی میزبانی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوم اپنے منصوبے ’دی لائن‘ کے لیے زیادہ معروف ہے جو 170 کلو میٹر طویل راہداری میں بیسیوں فلک بوس عمارتوں پر مشتمل ہوگا۔ دی لائن منصوبہ 2022 میں ولی عہد محمد بن سلمان نے پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2030 تک 10 لاکھ افراد اس میں رہ رہے ہوں گے اور 2045 تک اس کی آبادی 90 لاکھ ہوچکی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے رواں سال کے اوائل میں رپورٹ دی تھی کہ نظرِثانی شدہ منصوبوں کے مطابق رواں عشرے کے آخر تک اس میں صرف 3 لاکھ افراد نیوم میں آباد ہو پائیں گے اور صرف 2.4 کلومیٹر کی حد تک منصوبہ مکمل ہو پائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس سعودی عرب 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے بولی دینے والا واحد ملک تھا۔ عالمی معیار کے اسٹیڈیمز اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے اُس کے پاس 10 سال ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ شہر نیوم کے پہلے حصے کا افتتاح کردیا۔ بحیرہ احمر میں اس جزیرے پر ریستوراں، ہوٹل اور بڑی، تفریحی کشتیوں کے لیے برتھ کی سہولت بھی موجود ہے۔</strong></p>
<p>جس جزیرے کا افتتاح کیا گیا ہے اُسے سندالہ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب نیوم کو عملی شکل دینے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اور سعودی حکومت ڈیووس اِن دی ڈیزرٹ کی عرفیت پانے والے انویسٹرز فورم کا ریاض میں منگل کو افتتاح ہونے والا ہے۔</p>
<p>چیف ایگزیکٹیو نضمی الناصر کا کہنا ہے کہ نیوم وہ منصوبہ ہے جو سعودی عرب میں لگژری ٹورازم کے نئے دور کی معاونت کرے گا۔ سندلہ کا افتتاح ایک بڑی کامیابی ہے۔ نیوم کی افتتاحی منزل لوگوں کو بتائے گی کہ نیوز میں کیا کیا ہوسکتا ہے۔ سندلہ کا رقبہ 8 لاکھ 40 ہزار مربع میٹرز ہے۔ یہ یومیہ ڈھائی ہزار تک افراد کی میزبانی کرے گا۔</p>
<p>نیوم اپنے منصوبے ’دی لائن‘ کے لیے زیادہ معروف ہے جو 170 کلو میٹر طویل راہداری میں بیسیوں فلک بوس عمارتوں پر مشتمل ہوگا۔ دی لائن منصوبہ 2022 میں ولی عہد محمد بن سلمان نے پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2030 تک 10 لاکھ افراد اس میں رہ رہے ہوں گے اور 2045 تک اس کی آبادی 90 لاکھ ہوچکی ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363893"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بلومبرگ نے رواں سال کے اوائل میں رپورٹ دی تھی کہ نظرِثانی شدہ منصوبوں کے مطابق رواں عشرے کے آخر تک اس میں صرف 3 لاکھ افراد نیوم میں آباد ہو پائیں گے اور صرف 2.4 کلومیٹر کی حد تک منصوبہ مکمل ہو پائے گا۔</p>
<p>گزشتہ برس سعودی عرب 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے بولی دینے والا واحد ملک تھا۔ عالمی معیار کے اسٹیڈیمز اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے اُس کے پاس 10 سال ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30419270</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Oct 2024 00:08:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/10/280007497f1eb5c.webp?r=000854" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/10/280007497f1eb5c.webp?r=000854"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
