<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:02:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:02:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ وائلڈ لائف نے 300 کچھوؤں کے بچوں کو سمندر میں چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30420121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ وائلڈ لائف نے انڈوں سے نکلنے والے 300 کچھووں کو سمندر میں چھوڑ دیا، کچھووں کے بچوں کی عمریں ایک سے دو روز کے لگ بھگ تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرین ٹرٹل کنررویشن کے مطابق رواں سال کے سیزن کے آغاز سے اب تک 8 گرین ٹرٹلز کے مادہ کے 8 ہزارانڈوں کو گھونسلے میں رکھا جاچکا ہے، انڈوں سے بچے نکلنے کا دورانیہ 45 سے 60 دن پرمحیط ہوتا ہے، افزائش نسل کے لیے آنے والے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30358025/"&gt;سبز کچھووں&lt;/a&gt; کی مادہ کو ٹیگز بھی لگائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انچارج میرین ٹرٹل کنررویشن، سندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کا کہنا تھا کہ اس سال کچھووں کے انڈوں کا ہدف 30 ہزار رکھا گیا ہے، ایک مادہ 80 سے 110 کے قریب انڈے دیتی ہے، 1975سے اب تک 9 لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندر میں چھوڑے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30383150/"&gt;تھائی لینڈ سے پاکستان لائے گئے 200 نایاب کچھوے پکڑے گئے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30383446/"&gt;تھائی لینڈ سے غیر قانونی طور پر درآمد کچھوے سفاری پارک منتقل&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشفاق میمن نے مزید کہا کہ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا کچھووں کی باقی اقسام معدوم ہوچکی ہیں، گرین ٹرٹل واحد قسم ہے جو سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں کا رخ کرتی ہیں، گرین ٹرٹلز کی افزائش نسل کا دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ وائلڈ لائف نے انڈوں سے نکلنے والے 300 کچھووں کو سمندر میں چھوڑ دیا، کچھووں کے بچوں کی عمریں ایک سے دو روز کے لگ بھگ تھیں۔</strong></p>
<p>میرین ٹرٹل کنررویشن کے مطابق رواں سال کے سیزن کے آغاز سے اب تک 8 گرین ٹرٹلز کے مادہ کے 8 ہزارانڈوں کو گھونسلے میں رکھا جاچکا ہے، انڈوں سے بچے نکلنے کا دورانیہ 45 سے 60 دن پرمحیط ہوتا ہے، افزائش نسل کے لیے آنے والے <a href="https://www.aaj.tv/news/30358025/">سبز کچھووں</a> کی مادہ کو ٹیگز بھی لگائے جاتے ہیں۔</p>
<p>انچارج میرین ٹرٹل کنررویشن، سندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کا کہنا تھا کہ اس سال کچھووں کے انڈوں کا ہدف 30 ہزار رکھا گیا ہے، ایک مادہ 80 سے 110 کے قریب انڈے دیتی ہے، 1975سے اب تک 9 لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندر میں چھوڑے جاچکے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30383150/">تھائی لینڈ سے پاکستان لائے گئے 200 نایاب کچھوے پکڑے گئے</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30383446/">تھائی لینڈ سے غیر قانونی طور پر درآمد کچھوے سفاری پارک منتقل</a></p>
<p>اشفاق میمن نے مزید کہا کہ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا کچھووں کی باقی اقسام معدوم ہوچکی ہیں، گرین ٹرٹل واحد قسم ہے جو سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں کا رخ کرتی ہیں، گرین ٹرٹلز کی افزائش نسل کا دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک برقرار رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30420121</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Nov 2024 20:10:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انور)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/012008142991c8f.jpg?r=200915" type="image/jpeg" medium="image" height="576" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/012008142991c8f.jpg?r=200915"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
