<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:47:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:47:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان پر منی بجٹ لانے کیلئے دباؤ بڑھ گیا، آئی ایم ایف مشن آئندہ ہفتے آئے گا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30421197/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد منی بجٹ لانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا، اہداف کے حصول میں ناکامی، منی بجٹ لانے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا مددگار مشن حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر) میں 321 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا امکان ہے جس کے بعد  آئی ایم ایف نے اگلے ہفتے اپنا ہنگامی مشن پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کیے جائیں اور منی بجٹ کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کے لیے زور دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی اسٹاف ٹیم ناتھن پورٹر کی سربراہی میں 11 نومبر سے 15 نومبر تک معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیم پاکستان میں آئی ایم ایف قرض پروگرام کا بھی جائزہ لے گی جبکہ ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران جمع کیے جانے والے ٹیکس ریونیو کے ہدف میں شارٹ فال کا بھی جائزہ لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30420236/"&gt;آئی ایم ایف مطالبات پورے نہ ہوسکے، 500 ارب کے منی بجٹ کا خطرہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس اچانک دورے کا فیصلہ بنیادی طور پر اس وجہ سے کیا گیا کہ پاکستانی حکام حالیہ دنوں میں منعقدہ ورچوئل میٹنگز کے ذریعے آئی ایم ایف کو اصلاحاتی ارادے پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی پی پیز کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات، سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے علاوہ پی آئی اے اور ڈسکوز سمیت دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا جبکہ ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول کےلیے منی بجٹ سمیت ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آئی ایم ایف کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کوئی جائزہ مشن نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف فروری تا مارچ 2025 تک انتظار نہیں کرسکتا جب بجٹ کے اقدامات کے ذریعے اصلاحات کرنا ممکن نہ ہو، اسی لیے یہ ایک ہنگامی مشن ہے اور غیر معمولی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد منی بجٹ لانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا، اہداف کے حصول میں ناکامی، منی بجٹ لانے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا مددگار مشن حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔</strong></p>
<p>مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر) میں 321 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا امکان ہے جس کے بعد  آئی ایم ایف نے اگلے ہفتے اپنا ہنگامی مشن پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کیے جائیں اور منی بجٹ کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کے لیے زور دیا جائے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی اسٹاف ٹیم ناتھن پورٹر کی سربراہی میں 11 نومبر سے 15 نومبر تک معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔</p>
<p>ٹیم پاکستان میں آئی ایم ایف قرض پروگرام کا بھی جائزہ لے گی جبکہ ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران جمع کیے جانے والے ٹیکس ریونیو کے ہدف میں شارٹ فال کا بھی جائزہ لے گی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30420236/">آئی ایم ایف مطالبات پورے نہ ہوسکے، 500 ارب کے منی بجٹ کا خطرہ</a></p>
<p>ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے اس اچانک دورے کا فیصلہ بنیادی طور پر اس وجہ سے کیا گیا کہ پاکستانی حکام حالیہ دنوں میں منعقدہ ورچوئل میٹنگز کے ذریعے آئی ایم ایف کو اصلاحاتی ارادے پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30419910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی پی پیز کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات، سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے علاوہ پی آئی اے اور ڈسکوز سمیت دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا جبکہ ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول کےلیے منی بجٹ سمیت ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا جائے گا۔</p>
<p>تاہم، آئی ایم ایف کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کوئی جائزہ مشن نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف فروری تا مارچ 2025 تک انتظار نہیں کرسکتا جب بجٹ کے اقدامات کے ذریعے اصلاحات کرنا ممکن نہ ہو، اسی لیے یہ ایک ہنگامی مشن ہے اور غیر معمولی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30421197</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Nov 2024 11:19:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/07111544b08668d.jpg?r=111610" type="image/jpeg" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/07111544b08668d.jpg?r=111610"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
