<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 07:05:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 07:05:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: لڑکیوں سے زیادتی کے 20 ملزمان کو مجموعی طور پر 219 سال کی سزا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30421438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لندن: برطانیہ میں لڑکیوں سے زیادتی کے واقعات میں ملوث 20 افراد کو مجموعی طور پر 219 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزائیں برطانوی شہر ہیلی فیکس میں 12 سے 16 سال کی عمر کی 4 لڑکیوں سے زیادتی ثابت ہونے کے بعد سنائی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کا آغاز 2016 میں ہوا، جب مختلف واقعات کی جانچ کی گئی۔ ان تحقیقات میں کئی سالوں پر محیط واقعات شامل تھے، جن میں لڑکیوں کو دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ زیادتی کے واقعات 2001 سے 2010 کے درمیان پیش آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کا آغاز 2016 میں ہوا، جب 13 سے 16 سال کی 2 لڑکیوں سے 2006 سے 2009 کے درمیان ہونے والے واقعات کی تحقیقات کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری تحقیقات بھی 2016 میں شروع ہوئی، جس میں ایک لڑکی کے ساتھ 2006 سے 2010 کے درمیان ہونے والے زیادتی کے واقعات شامل تھے، اس وقت اس کی عمر محض 13 سال تھی۔ ایک اور لڑکی سے زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز 2018 میں ہوا۔ غیر ملکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، ان واقعات کے دوران ملزمان نے لڑکیوں کو دھمکیاں دے کر بلیک میل بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ کیس برطانیہ میں جنسی تشدد اور لڑکیوں کی حفاظت کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ جنسی تشدد کے خلاف قوانین اور ان کے نفاذ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس طرح کے واقعات نے متاثرہ لڑکیوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور اس کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر آگاہی اور انصاف کے حصول کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لندن: برطانیہ میں لڑکیوں سے زیادتی کے واقعات میں ملوث 20 افراد کو مجموعی طور پر 219 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزائیں برطانوی شہر ہیلی فیکس میں 12 سے 16 سال کی عمر کی 4 لڑکیوں سے زیادتی ثابت ہونے کے بعد سنائی گئیں۔</strong></p>
<p>تحقیقات کا آغاز 2016 میں ہوا، جب مختلف واقعات کی جانچ کی گئی۔ ان تحقیقات میں کئی سالوں پر محیط واقعات شامل تھے، جن میں لڑکیوں کو دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ زیادتی کے واقعات 2001 سے 2010 کے درمیان پیش آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کا آغاز 2016 میں ہوا، جب 13 سے 16 سال کی 2 لڑکیوں سے 2006 سے 2009 کے درمیان ہونے والے واقعات کی تحقیقات کی گئیں۔</p>
<p>دوسری تحقیقات بھی 2016 میں شروع ہوئی، جس میں ایک لڑکی کے ساتھ 2006 سے 2010 کے درمیان ہونے والے زیادتی کے واقعات شامل تھے، اس وقت اس کی عمر محض 13 سال تھی۔ ایک اور لڑکی سے زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز 2018 میں ہوا۔ غیر ملکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، ان واقعات کے دوران ملزمان نے لڑکیوں کو دھمکیاں دے کر بلیک میل بھی کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ کیس برطانیہ میں جنسی تشدد اور لڑکیوں کی حفاظت کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ جنسی تشدد کے خلاف قوانین اور ان کے نفاذ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس طرح کے واقعات نے متاثرہ لڑکیوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور اس کے نتیجے میں معاشرتی سطح پر آگاہی اور انصاف کے حصول کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30421438</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Nov 2024 12:35:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/0812344358a0106.jpg?r=123508" type="image/jpeg" medium="image" height="549" width="976">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/0812344358a0106.jpg?r=123508"/>
        <media:title>فائل فوٹو: تصویر بزریعہ بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
