<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:10:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:10:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی آمدن پر ٹیکس کیلئے آئی ایم ایف وفد خود صوبوں سے بات کرے گا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30421662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی صوبائی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی کی شرط پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد آئندہ ہفتے صوبائی حکام سے الگ الگ مذاکرات کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومتی سے آئندہ ملاقات کے ایجنڈے میں نیشنل فسکل پیکٹ، امدادی قیمتوں کا تعین، بجٹ سرپلس سمیت اہم نکات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی مالیاتی معاہدے کے تحت 30 اکتوبر تک زرعی صوبائی قانون سازی کا عمل مکمل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے قبل پنجاب اور کیبرپختونخوا نے کابینہ سے قانون سازی کی منظوری لی تھی، لیکن صوبائی اسمبلی سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون تاحال منظور نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف شرط کے مطابق صوبوں کو جنوری 2025 سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانا ہے، زرعی آمدن پر 5 فیصد سے 45 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 اکتوبر تک تمام صوبوں کو زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی نہ ہو سکی، صوبائی اسمبلی سے قانون سازی نہ ہونے پر آئی ایم ایف کی شرط پوری نہیں ہوئی، سندھ اور بلوچستان بھی زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کیلئے قانون سازی نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق قومی مالیاتی معاہدے کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس صوبے ہی جمع کریں گے، زرعی اشیا کی امدادی قیمتیں مقرر نہ کرنے کیلئے صوبائی اقدامات کا جائزہ بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی صوبائی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی کی شرط پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد آئندہ ہفتے صوبائی حکام سے الگ الگ مذاکرات کرے گا۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومتی سے آئندہ ملاقات کے ایجنڈے میں نیشنل فسکل پیکٹ، امدادی قیمتوں کا تعین، بجٹ سرپلس سمیت اہم نکات شامل ہیں۔</p>
<p>قومی مالیاتی معاہدے کے تحت 30 اکتوبر تک زرعی صوبائی قانون سازی کا عمل مکمل کرنا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے قبل پنجاب اور کیبرپختونخوا نے کابینہ سے قانون سازی کی منظوری لی تھی، لیکن صوبائی اسمبلی سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون تاحال منظور نہ ہو سکا۔</p>
<p>آئی ایم ایف شرط کے مطابق صوبوں کو جنوری 2025 سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانا ہے، زرعی آمدن پر 5 فیصد سے 45 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>30 اکتوبر تک تمام صوبوں کو زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی نہ ہو سکی، صوبائی اسمبلی سے قانون سازی نہ ہونے پر آئی ایم ایف کی شرط پوری نہیں ہوئی، سندھ اور بلوچستان بھی زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کیلئے قانون سازی نہ کر سکے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق قومی مالیاتی معاہدے کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس صوبے ہی جمع کریں گے، زرعی اشیا کی امدادی قیمتیں مقرر نہ کرنے کیلئے صوبائی اقدامات کا جائزہ بھی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30421662</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Nov 2024 15:24:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/0915241426e31ba.webp?r=152447" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/0915241426e31ba.webp?r=152447"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
