<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 21:12:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 21:12:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی ڈی این اے کمپنی لاکھوں لوگوں کا حساس جسمانی ڈیٹا لے کر غائب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30422060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی ایک ڈی این اے کمپنی لاکھوں افراد کا حساس جسمانی یا حیاتیاتی ڈیٹا لے کر غائب ہوگئی ہے۔ اس کمپنی کا روس سے بھی تعلق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلس بایو میڈ نامی کپنی کی ویب سائٹ بند ہوچکی ہے اور اُس کے فون نمبر بھی کام نہیں کر رہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلس بایو میڈ کے لندن میں بھی دفاتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی اپنے کسٹمرز کو اُن کے جینیٹک میک اپ کے بارے میں اہم اور گراں قدر معلومات فراہم کیا کرتی تھی۔ یہ کمپنی اپنے کسٹمرز کو ممکنہ بیماریوں کے بارے میں بھی مطلع کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے غائب ہو جانے سے کسٹمرز بہت پریشان ہیں کیونکہ کمپنی کے پاس اُن کے بایو میٹرکس بھی ہیں۔ وہ اپنے ڈیٹا کی سلامتی کے حوالے سے شدید ذہنی الجھن کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30327946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی انفارمیشن کمشنرز آفس نے بتایا کہ وہ اس واقعے سے باخبر ہے اور یہ بھی کہ اُسے کمپنی کے غائب ہو جانے کے حوالے سے باضابطہ شکایت بھی موصول ہوئی ہے۔ آئی سی او کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کمپنی کے بارے میں جاننے کا حق ہے کیونکہ اُن کے حساس حیاتیاتی ڈیٹا کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بایو میڈ کے انسٹا گرام اکاؤنٹ کے فالوئرز کی تعداد 11 ہزار ہے اور اس پر آخری پوسٹ مارچ 2022 کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی ایک ڈی این اے کمپنی لاکھوں افراد کا حساس جسمانی یا حیاتیاتی ڈیٹا لے کر غائب ہوگئی ہے۔ اس کمپنی کا روس سے بھی تعلق ہے۔</strong></p>
<p>اٹلس بایو میڈ نامی کپنی کی ویب سائٹ بند ہوچکی ہے اور اُس کے فون نمبر بھی کام نہیں کر رہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلس بایو میڈ کے لندن میں بھی دفاتر ہیں۔</p>
<p>یہ کمپنی اپنے کسٹمرز کو اُن کے جینیٹک میک اپ کے بارے میں اہم اور گراں قدر معلومات فراہم کیا کرتی تھی۔ یہ کمپنی اپنے کسٹمرز کو ممکنہ بیماریوں کے بارے میں بھی مطلع کرتی تھی۔</p>
<p>کمپنی کے غائب ہو جانے سے کسٹمرز بہت پریشان ہیں کیونکہ کمپنی کے پاس اُن کے بایو میٹرکس بھی ہیں۔ وہ اپنے ڈیٹا کی سلامتی کے حوالے سے شدید ذہنی الجھن کا شکار ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30327946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دی انفارمیشن کمشنرز آفس نے بتایا کہ وہ اس واقعے سے باخبر ہے اور یہ بھی کہ اُسے کمپنی کے غائب ہو جانے کے حوالے سے باضابطہ شکایت بھی موصول ہوئی ہے۔ آئی سی او کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کمپنی کے بارے میں جاننے کا حق ہے کیونکہ اُن کے حساس حیاتیاتی ڈیٹا کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔</p>
<p>بایو میڈ کے انسٹا گرام اکاؤنٹ کے فالوئرز کی تعداد 11 ہزار ہے اور اس پر آخری پوسٹ مارچ 2022 کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30422060</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Nov 2024 19:03:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/1118591938447bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/1118591938447bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
