<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:42:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:42:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ماہرین نے جدید ترین چاند گاڑی تیار کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30422508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے خلائی تحقیق سے متعلق ادرے سپارکو نے چین کے اشتراک سے بھیجنے کے لیے چاند گاڑی تیار کرلی ہے۔ یہ انقلابی نوعیت کا مُون مشن 2028 میں متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی تحقیق کے حوالے سے یہ پاک چین اشتراکِ عمل سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مقامی طور پر تیار کردہ روور شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے تیار کردہ روور یا چاند گاڑی کا وزن 35 کلو گرام ہے۔ یہ چاند گاڑی چین کے چانگ ای 8 مشن کا حصہ ہوگی جو چاند سے متعلق تحقیق کے بین الاقوامی اسٹیشن (ILRS) کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی چاند گاڑی چاند کے جنوبی قطب پر اترے گی جو انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے۔ یہاں غیر معمولی نوعیت کی قمری تحقیق کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن بنیادی طور پر چاند کی سطح کے مشاہدے، تجزیے، تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کے تجربے کے لیے ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح کا نقشہ بھی بنائے گا اور چاند کی مٹی کا تجزیہ بھی کرے گا۔ سپارکو کی تیار کردہ چاند گاڑی جدید ترین آلات سے لیس ہوگی اور اہم ڈیٹا جمع کرنے میں معاونت کرے گی۔ رواں برس مئی میں چین کے خلائی مشن ’چینگ ای 6‘ کے ساتھ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ چاند کے مدار میں بھیجا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے خلائی تحقیق سے متعلق ادرے سپارکو نے چین کے اشتراک سے بھیجنے کے لیے چاند گاڑی تیار کرلی ہے۔ یہ انقلابی نوعیت کا مُون مشن 2028 میں متوقع ہے۔</strong></p>
<p>خلائی تحقیق کے حوالے سے یہ پاک چین اشتراکِ عمل سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مقامی طور پر تیار کردہ روور شامل ہے۔</p>
<p>سپارکو کے تیار کردہ روور یا چاند گاڑی کا وزن 35 کلو گرام ہے۔ یہ چاند گاڑی چین کے چانگ ای 8 مشن کا حصہ ہوگی جو چاند سے متعلق تحقیق کے بین الاقوامی اسٹیشن (ILRS) کا حصہ ہے۔</p>
<p>پاکستانی چاند گاڑی چاند کے جنوبی قطب پر اترے گی جو انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے۔ یہاں غیر معمولی نوعیت کی قمری تحقیق کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30385612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ مشن بنیادی طور پر چاند کی سطح کے مشاہدے، تجزیے، تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کے تجربے کے لیے ہے۔ یہ مشن چاند کی سطح کا نقشہ بھی بنائے گا اور چاند کی مٹی کا تجزیہ بھی کرے گا۔ سپارکو کی تیار کردہ چاند گاڑی جدید ترین آلات سے لیس ہوگی اور اہم ڈیٹا جمع کرنے میں معاونت کرے گی۔ رواں برس مئی میں چین کے خلائی مشن ’چینگ ای 6‘ کے ساتھ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ چاند کے مدار میں بھیجا جاچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30422508</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Nov 2024 19:28:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/131915324320023.webp?r=192829" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/131915324320023.webp?r=192829"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
