<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 06:37:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 06:37:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی خفیہ ایجنسی کا اعلیٰ ترین اہلکار ہی اسرائیلی حملوں کے دستاویزات کی لیک میں ملوث نکلا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30422544/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران پر اسرائیلی حملوں کے منصوبوں سے متعلق دستاویزات لیک کرنے کے کیس میں امریکی اداروں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف ڈبلیو رحمٰن سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا اور اُسے غیر معمولی سیکیورٹی کلیئرنس بھی حاصل تھی۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اُسے امریکا کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے منگل کو کمبوڈیا میں گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایران کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ جوابی اقدامات کے منصوبوں سے متعلق دستاویزات وائرل ہوگئی تھیں۔ یہ دستاویزات یکم اکتوبر کو ایران کی طرف سے اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل داغے جانے بعد طے کی جانے والی حکمتِ عملی سے متعلق تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دستاویزات نیشنل جیو اسپیٹیل انٹیلی جینس ایجنسی نے تیار کی تھیں جن سے سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصویریں بھی نتھی کی گئی تھیں۔ اس میں میزائلز کے ذریعے کی جانے والی جوابی کارروائی کی تفصیلات بھی درج تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30333998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دستاویزات آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکا پر مشتمل انٹیلی جنس الائنس فائیو آئیز سے تعلق رکھنے والے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے تھے جہیں اعلیٰ ترین سطح پر کلیئرنس دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی مڈل ایسٹ اسپیکٹیٹر نے بتایا تھا کہ اُسے یہ دستاویزات نامعلوم ذرائع سے موصول ہوئی تھیں اور یہ کہ اُس کا اِن دستاویزات کو لیک کرنے والے سے کوئی تعلق نہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران پر اسرائیلی حملوں کے منصوبوں سے متعلق دستاویزات لیک کرنے کے کیس میں امریکی اداروں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک اعلیٰ اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔</strong></p>
<p>آصف ڈبلیو رحمٰن سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا اور اُسے غیر معمولی سیکیورٹی کلیئرنس بھی حاصل تھی۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق اُسے امریکا کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے منگل کو کمبوڈیا میں گرفتار کیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایران کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ جوابی اقدامات کے منصوبوں سے متعلق دستاویزات وائرل ہوگئی تھیں۔ یہ دستاویزات یکم اکتوبر کو ایران کی طرف سے اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل داغے جانے بعد طے کی جانے والی حکمتِ عملی سے متعلق تھیں۔</p>
<p>یہ دستاویزات نیشنل جیو اسپیٹیل انٹیلی جینس ایجنسی نے تیار کی تھیں جن سے سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصویریں بھی نتھی کی گئی تھیں۔ اس میں میزائلز کے ذریعے کی جانے والی جوابی کارروائی کی تفصیلات بھی درج تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30333998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ دستاویزات آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکا پر مشتمل انٹیلی جنس الائنس فائیو آئیز سے تعلق رکھنے والے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے تھے جہیں اعلیٰ ترین سطح پر کلیئرنس دی گئی ہو۔</p>
<p>دی مڈل ایسٹ اسپیکٹیٹر نے بتایا تھا کہ اُسے یہ دستاویزات نامعلوم ذرائع سے موصول ہوئی تھیں اور یہ کہ اُس کا اِن دستاویزات کو لیک کرنے والے سے کوئی تعلق نہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30422544</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Nov 2024 22:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/11/13225050114d9b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/11/13225050114d9b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
